Posts

صفاٸ ستھراٸ ۔ اردو نظم بچوں کے لۓ

Image
Urdu poem about cleanliness  صفائی ستھرائی کی اہمیت کے بارے میں ایک نظم بچوں کے لیے صفاٸ ستھراٸ اردو نظم بچوں کے لۓ صفاٸ ستھراٸ کو کر لو ایسا چمکے ہر کونا شیشے جیسا صفاٸ سے ملے صحت تندرستی روزانہ نہانے سے آۓ چستی کرو احتیاط، کاٹو ناخن ہاتھ دھو، لے کر صابن ظاہر ہو یا ہو باطن رکھو صاف اپنا تن من صاف ہو گھر، صاف سکول کامیابی کا راز — صاف ماحول کچرے کو جو ملے کوڑے دان جراثیم و بیماری سے ہو  امان آدھا ایمان مکمل کر لوگے جب صفاٸ کا اہتمام کر لوگے اپنی پاکی کا رکھو دھیان صاف ماحول، خوشی کا نشان صاٸمہ ندیم

ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ کہانی محمد طہ

Image
 _ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی_ :مصنف :محمد طہ جماعت  ہفتم بی ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بچہ رہتا تھا اس کا نام شونٹی تھا اس کو ایک ایسی بیماری تھی جس سے اس کے بال کبھی بھی نہیں اگ سکتے تھے اس لیے وہ دوسرے بچوں کے بال دیکھ کر جلتا تھا اس نے ایک دفعہ ایک انسان کو دیکھا اور اس کا نام پوچھا وہ کہنے لگا کہ میرا نام پتنجلی بابا ہے وہ ایک کمپنی کا مالک تھا جس کا نام پتنجلی بابا کے بلے بلے کریم تھا وہ کریم بالوں کو دو منٹ میں اگا سکتی تھی لیکن بچے کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے تو اس نے ان بابا جی کو کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں مگر مجھے بال چاہیے ہیں تنزلی بابا نے کہا کہ اگر تم میرے گھر میں تین دن تک کام کرو گے تو میں تمہیں وہ کریم مفت میں دے دوں گا بچے نے تین دن تک لگاتار محنت سے کام کیا اور اس کو وہ کریم حاصل ہو گئی تو اس نے جب اس کریم کو دو دن تک بالوں پہ لگایا تو کوئی فرق نہ پڑا اور پھر اس نے اس کریم کو بار بار لگایا مگر پھر سے کوئی فرق نہ پڑا کچھ دن بعد اس نے اخبار پڑھی تو پتہ چلا کہ وہ بابا دھوکے باز نکلا تو اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر چمکتی چیز سونا ...
 ملے مجھے چاند اور اک تارا سبز تھا باغ سارا قریب۔ان کے ندی تھی سفیدی جس میں بھری تھی چاند روشن چنکتا تھا تڑقی سے دمکتا تھا تارا کا ہر کونہ  ارکان۔اسلام سے بھرا تھا پوچھا میرا گھر  برف سا سفید اور  

ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اردو کہانی

Image
 ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ اردو کہانی مصنفہ :یشفین  جماعت :ہفتم اے

میں بنا ایک کبوتر۔اردو نظم بچوں کے لۓ

Image
 میں بنا ایک کبوتر۔ اردو نظم بچوں کے لۓ صاٸمہ ندیم میں بنا ایک کبوتر  ڈھونڈنے نکلا نیا گھر دیکھے میں نے پہاڑ برف سے ڈھکے شاندار ان کےبیچ تھی وادیاں بہتی تھی نیلی ندیاں پاس تھیں چھوٹی پہاڑیاں لۓ درخت اور جھاڑیاں ملے مجھے میدانی علاقے سبز فصلوں کے بنے خاکے کچھ دور تھا اک دریا نیلا، میٹھا اور چمکیلا دوست تھا اس کا سمندر نمکین پانی تھا اس کے اندر ملا مجھے دور یوں جزیرہ پانی نے اس کو تھا گھیرا پسند آٸ کچھ سطع مرتفع باقی جگہ سے تھا میں اونچا کیسا تھا دوستو ریگستان ہر طرف ریت کا تھا طوفان  چُنوں کونسی زمینی شکل بتا ٶ آپ مجھے آج یا کل

بارش آٸ ٹپ ٹپ

Image
اردو نظم ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !حسن پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا؟ ۔۔۔میں۔۔میں۔۔میں ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !عریشہ پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا؟ ۔میں۔۔میں۔۔میں۔۔۔ ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !آپی پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا؟ ۔۔۔میں۔۔میں۔۔میں ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !بھیا پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا؟ ۔میں۔۔میں۔۔میں۔۔۔ ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !قوس قزح پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا ۔میں۔۔میں۔۔میں

جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ اردو کہانی بچوں کے لۓ

Image
 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔  Tit For Tat اردو کہانی بچوں کے لۓ صاٸمہ ندیم ایک دفعہ ایک جنگل میں بہت سے جانور مل جل کر رہتے تھے جب جنگل کے بندروں نےجنگل کے بادشاہ شیر سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگل کے اس حصے میں رہنے والی گلہریوں کو یہاں سے نکال دیں کیونکہ  گلہریوں کے درختوں پر چڑھنے اور اُترنے کی وجہ سے بندر اور ان کے بچوں کو مشکلات ہوتی ہیں اور دوسرا وہ گلہریاں ان کے کھانے کی چیزیں بھی اٹھا لیتی ہیں۔ ایسا جنگل میں پہلے  کبھی نہیں ہوا تھا ۔ سب جانور مل جل کر رہتے تھے۔ بندروں کا یہ مطالبہ سن کر گلہریاں بہت پریشان ہوئیں۔ بندروں کے شیر بادشاہ کے وزیر لومڑی کے ساتھ تعلقات اچھے تھے اس کے علاوہ وہ اپنی چاپلوسی میں بھی مشہور تھے۔گلہریاں جانتی تھیں کہ حق پر ہونے کے باوجود بھی فیصلہ ان کے خلاف آۓ گااور ایسا ہی ہوااور گلہریوں کو جنگل کے دوسرے حصے میں جانے کا کہا گیا۔اس فیصلے کو جنگل کے باقی جانوروں نے بھی پسند نہ کیا لیکن وہ بھی بندروں کی بدمعاشی سے خوفزدہ تھے۔آخر گلہریوں کو جنگل کے دوسرے حصے میں منتقل ہونا پڑاجو کہ درمیان کے حصے کی طرح سر سبز نہیں تھااور انسانی آبادی سے بھی بہت دور ...