سکول گپیاں #schoolgapian
"مس چھٹیاں کب یوں گی؟" موحد نے بورڈ تیار کرتی مس آمنہ سے پوچھا۔
"کچھ خدا کا خوف کریں ۔ آج ہی آپ تین مہینے کی گرمیوں کی چھٹیوں کے بعد سکول تشریف لاۓ ہیں ۔
۔آتے ہی چھٹیوں کی پڑ گئ ہے۔ کچھ پڑھ لیں
اب۔۔۔۔"
"مس سموگ کی چھٹیاں ہوں گی!" جماعت پر کچھ خاص اثر نہ ہوا۔
"گھر ہی رہنا تھا۔ آۓ کیوں ہیں آپ لوگ؟" مس آمنہ غصے سے بولیں۔
"مس ، آج ہم نہیں پڑھیں گے۔ آج پہلا دن ہے۔" معیز نے اعلان کیا۔
"پہلے ہی کسی نہ کسی وجہ سے سکول بار بار بند ہو جاتے ہیں اوپر سے آج کا دن بھی ضائع کردیں۔ کتابیں کھولیں۔" مس آمنہ نے اپنی کتاب کھولی۔
"پلیز مس آج نہیں۔۔۔"
"اچھا صرف سبق کی پڑھائ کر لیتے ہیں۔ کاپی کا کام نہیں کریں گے۔صفحہ ۵۰ کھولیں۔ نیا سبق ہے۔۔۔"
"مس سردیوں کی چھٹیاں کب ہوں گی۔"
"مس ہفتے کے دن آنا ہے یا چھٹی ہو گی۔"
"میں آخری دفعہ کہہ رہی ہوں۔ اب کوئ چھٹی کا نہیں پوچھے گا۔"
-"اچھا آج ہم نیا باب شروع کریں گے۔ پاکستان کی تاریخ
اور ثقافت"۔ معید پہلا پیراگراف ۔۔۔۔"
"آمنہ بات سنو۔۔۔"
ابھی مس آمنہ کی بات ختم نہیں ہوئ تھی کہ مس شازیہ دروازے میں نظر آئیں۔ وہ کافی پریشان لگ رہی تھیں۔
"آپ لوگ پڑھائ کریں۔ میں ابھی آکر سمجھاتی ہوں۔" مس آمنہ جماعت کے دروازے پر گئیں۔
مس شازیہ ہاتھ میں موبائل لے کر کافی پریشان کھڑی تھیں۔
"یار یہ عرس کی چھٹی آرہی ہے۔ ہمیں ہوگی یا نہیں؟" مس شازیہ نے موبائل آگے کرتے پوچھا۔
"ہمیں کہاں دیتے ہیں یہ چھٹیاں ! یہ تو ویسے بھی لوکل ہالیڈے ہے۔" مس آمنہ نے دکھ بھری آواز میں کہا۔
"ویسے بارہ ربیع الاول کی چھٹی تو کنفرم ہے نہ۔"
"ہاں وہ تو ہوگی ہی۔ بس یہ عرس والی بھی مل جاۓ تو میرے بہت کام ہو جائیں گے۔"مس شازیہ خود سے بولتے ہوۓ واہس چلی گئیں۔ مس آمنہ جماعت میں واپس آئیں۔
"اچھا پاکستان کی ثقافت بہت رنگا رنگ ہے۔ ہر صوبے کا اپنا مزاج، اپنی تاریخ۔۔۔۔"
"مس بارہ ربیع الاول کی چھٹی ہوگی؟"
" مس باہر ملک کے وزیر اعظم ہمارے ملک آرہے ہیں۔ہمیں سیکیورٹی کی
وجہ سے چھٹیاں ہوں گی یا نہیں۔"
"مس سیلاب کی چھٹیاں ہوں گی یا نہیں۔"
"اف کیا بنے گا ہماری قوم کا"۔ مس آمنہ نے سر پکڑ لیا۔