Advertisement

Tuesday 28 June 2022

بڑی عید کہانی ”مشن انگوٹھی تلاش“ اردو کہانی ۔ صاٸمہ ندیم

بڑی عید کہانی ”مشن انگوٹھی تلاش“ اردو کہانی ۔ صاٸمہ ندیم 

بڑی عید کہانی 

مشن انگوٹھی تلاش“

 اردو کہانی ۔ صاٸمہ ندیم

عید الاضحیٰ کہانی بچوں کے لۓ


۔”میں ۔۔میں۔۔۔مییہ ۔۔۔،“ بکرے کی آواز نے پورا محلہ سر پر اٹھا رکھا تھا۔ سچ میں بہت ہی غصیلہ بکرا تھا۔ پہلے تو بابا نے اسے گیراج میں باندھا لیکن اس نے گھڑکی کے اوپر جو چھلانگیں لگاٸیں کہ رابی پھو پھو کی جان ہی نکل گٸ۔ بس پھر دادا ابو کے کہنے پر بکرے کو صحن میں باندھ دیا۔  اب سارے بچے بکرے کے پیچھے صحن میں آگۓ۔ وانیہ اور آمنہ  ابو کے گھر اسلام آباد آٸ ہوٸیں تھیں اور اب سب کزن بکرے کے ساتھ مزے کر رہے تھے۔  بھی بڑی عید سب کے ساتھ منانے دادا پہلے تو بکرے نے صحن میں لگے امرود کے درخت کے نیچےکے سارے پتے کھاۓ اور پھر  چھلانگیں لگاتا میں۔۔۔میں۔۔۔۔میہ ۔۔۔ کرنے لگا۔ 

  یہ بڑے بڑے دو سینگ، لمبی ٹانگیں ، سفید رنگ اور ماتھے پر کالے بالو ں کی پٹی کے ساتھ وہ ایک شاندار بکرا تھا۔ حمزہ نے تو اس کا غصہ دیکھ کر اس کا نام ”مغل اعظم“ رکھ دیا۔ 

بابا بازار سے ”مغل اعظم“ کے لۓ چارا لے آۓ۔ ماما نے بکرے کو دینے کے لۓ چنے کی دال پانی میں بھگو کر رکھ دی۔ دادو نے بکرے کو لگانے کے لۓ مہندی گھولی اور صحن میں آگیٸں۔ بچے بکرے کے اوپر مہندی سے عید مبارک لکھنے لگے۔ سب ہی بکرے کی سیوا میں مصروف تھے سواۓ رابی پھو پھو کے۔ ان کی تو جب سے منگنی ہوٸ تھی وہ ہر وقت یا تو موباٸل پر اپنی تصویریں بناتی رہتی تھیں یا میک اپ کرتی رہتی تھیں۔ گھر میں کیا ہو رہا ہے اس میں انھیں کوٸ دلچسپی نہ تھی۔ 

۔”بچاٶ۔۔بچاٶ۔۔۔۔ بکرے نے حمزہ کو سینگ مارا۔۔۔، “ بچوں کے چیخنے کی آواز سن کر سب باہر آۓ تو حسان نے بکرے کے  دونوں سینگوں کو پکڑا ہوا تھا اور حمزہ اور اذلان کو ڈرا رہا تھا۔ حذیفہ بھاٸ ننھی جزل کو بکرے کے او پر بٹھانے کی کوشش کر  رہا تھا۔

وانیہ، عشل اور اریبہ بجو چیخیں مار رہی تھیں کہ بکرے کو تنگ نہ کرو۔

۔”بہت بُری بات ہے قربانی کے جانور کو  تنگ نہیں کرتے“۔پھو پھو نے سب کو  ڈانٹا اور جزل کوبکرے کے اوپر سے اٹھا کر گود میں لے لیا۔   


،۔”دادو ہم مغل اعظم کو باہر لے جاٸیں، 

ارحا نے نٸ فرماٸش کر دی۔


۔”نہیں ابھی نہیں ۔۔۔ شام کو لے جانا۔۔۔ اور  بکرے کو تنگ نہیں کریں۔ تم بھی موباٸل کی جان چھوڑو اور ذرا دھیان رکھو،“ دادو نے رابی پھو پھو کو دیکھ 

کر کہا اور اندر چلی گٸیں۔



 ۔”چلو بچو بکرے کے ساتھ 

میری اچھی سی تصویر بناٶ،“ دادو کے اندر جاتے ہی پھو پھو نے جزل کو گود سے اتارا اور موباٸل وانیہ کو دے دیا۔

۔”اچھا اب ایک اور تصویر بکرے کو پانی پلاتے ہوۓ۔۔۔،“  پھو پھو نے پانی والا برتن اٹھایا اور بکرے کے منہ کے قریب کر دیا۔


۔پھو پھو۔۔۔ بکرے کو یہ چارہ بھی کھلاٸیں،“ آمنہ نے چارے کی طرف اشارہ ۔کیا

پھر رابی پھو پھو نے ہاتھ میں چارہ اٹھایا اور بکرے کے منہ کے قریب کیا لیکن ان کا پورا دھیان موباٸل کیمرے

کی طرف تھا جب بکرے نے چھلانگ لگا کر ان کے ہاتھ سے چارا منہ میں ڈال لیا۔

 

۔”آ۔۔۔بہت ہی بدتمیز بکرا ہے۔ ذرا تمیز نہیں،“ رابی پھو پھو نے ڈر کر ہاتھ پیچھے کیا۔ سارے بچے ہنسنے لگے۔

۔”ہاۓ۔۔😢 بکرے نے میری منگنی کی انگوٹھی کھا لی۔۔۔ میری انگوٹھی۔۔۔ منہ کھو لو اس کا۔۔۔،“ اچانک پھو پھو نے واویلہ  مچانا شروع کر دیا۔یہ واویلہ سن کر سب پریشان ہو گۓ۔

۔”کیسے کھالی۔۔۔ کب کھا لی۔۔،“ دادو تو بہت پریشان ہوٸیں۔

۔”منہ کھولو۔۔۔،“ بابا نے جلدی سے بکرے کا منہ کھولنے کی کوشش کی۔

۔”اب کہا ں ملے گی ۔۔۔ انگوٹھی تو اس نے نگل بھی لی ہوگی،“ دادا ابو پریشانی سے بولے۔

۔”اب کیا ہوگا۔ عید پر میرے سسرال والے آٸیں گے تو میں کیا کروں گی۔ وہ

“،۔توانگوٹھی کے بارے میں ۔پوچھیں گے

۔تمہیں کہا بھی تھا کہ انگوٹھی کُھلی ہے۔ ہر وقت نہ پہنا کرو،“ دادو بھی پریشان ہو  گٸیں۔

۔”میں نے ابھی ابھی پہنی تھی مجھےکیا پتہ تھا !،“۔،

”ا

۔”اب کچھ نہیں ہو سکتا۔۔۔ ہو سکتا ہے بکرے کی پوپ کے ساتھ انگوٹھی باہر آجاۓ یا پھر کل قربانی کے بعد کہیں گوشت میں سے مل جاۓ۔،“۔،

 بابا نے بتایا۔

۔”مجھے تو بکرے کی فکر ہو رہی ہے۔ اسے کوٸ نقصان نہ ہو انگوٹھی کے نگلنے سے،“ دادا ابو نے فکر مندی سے بکرے کی کمر پر ہاتھ پھیرا۔

مغل اعظم اس تمام پریشانی سے بے خبر اب بھی اپنی رسی تڑوانے کی کوشش کررہا تھا۔

۔”اب تم سب بچے یہں رہو گے اور جیسے ہی بکرا پوپ کرے تو اس کی مینگنیوں میں میری انگوثھی ڈھونڈھو گے،“ رابی پھو پھو نے حکم دیا ۔

۔”بالکل نہیں۔۔۔ یہ کام آپ خو ہی کریں“ 

عشل پیچھے ہٹتے بولی

 پھو پھو کی آواز روہانسی ہو گٸ اور وہ جلدی سے چارے والے ٹب میں اپنی انگوٹھی 

ڈھونڈنے لگیں۔

۔”کیا پتہ یہیں گر گٸ ہو،“۔  

  “،۔”پلیز

۔بس پھر تو ”مشن انگوٹھی تلاش“ شروع ہوگیا۔ بچے ناک پر ہاتھ رکھے ڈنڈیوں کی مدد سے بکرے کی مینگنیوں 

کو ہلا ہلا کر دیکھنے لگے“ 


ٍ۔رُکو مغل اعظم۔۔۔ گندا مغل اعظم،“ صحن بکرے کی سوکھی،  اور گیلی مینگنیوں کےذروں سے بھر گیا۔ ہر طرف گند ہو گیا لیکن رابی پھو پھو کی انگوٹھی باہر نہ آٸ۔

دادو کے کہنے پر چارے والا ٹب، پانی والا برتن اور گھر بھی دیکھ لیا کہ کہیں انگوٹھی پہلے ہی نہ باہر گر گٸ ہو لیکن انگوٹھی نہ ملی۔ آخر اندھیرا ہو گیا۔ سب انگوٹھی ڈھونڈتے تھک گۓ اب تو بس ایک ہی دعا تھی کہ کل گوشت میں سے 

انگوٹھی مل جاۓ


اگلی صبح بڑی عید تھی۔ صبح کی صفاٸ میں پھر انگوٹھی کی ناکام تلاش ہوٸ۔ سب گھر کے مرد عید کی نماز پڑھنے چلے گۓ تو خواتین نوافل پڑھنے کے بعد کچن میں آگٸیں۔ ناشتے میں کٸ طرح کا میٹھا بنانے کے بعد گوشت کے سالن کے لۓ  پیاز اور لہسن وغیرہ چھیلنے لگیں۔ سب بظاہر مصروف تھے لیکن سب کا دھیان رابی پھو پھو کی انگوٹھی کی طرف تھا۔


آخر قصاٸ آیا اور گیراج میں ہی بکرے کی قربانی ہو گٸ۔  اب گوشت کے حصے ہونے لگے۔ سب بچے اور بڑے بہت غور سے ایک ایک بوٹی کا جاٸزہ لے رہے تھے۔ بکرے کا دل، پھیپھڑے، گُردے، آنتیں ، ران، دستی حتیٰ کہ سری بھی بن گٸ لیکن انگوٹھی نہ ملی۔

۔”وہ یقیناً ہڈیوں میں چلی گٸ ہو گی،“ پھوپھو پریشان ہو کر بولیں۔

۔”ایسا نہیں ہو سکتا،“۔ 

۔”یقیناً بکرے نے انگوٹھی نگلی ہی نہی ورنہ مل ہی جاتی۔ ایک بار پھر گھر میں دیکھو،“ بابا نے کہا اور گوشت کے حصے کرنے لگے۔


اب بھی کسی کو تسلی نہ ہوٸ اور سب گوشت کی ایک ایک بوٹی کو دیکھتے رہے۔

۔”پریشان نہ ہو۔ دکانیں کھلیں گی تو ہم ویسی ہی انگوٹھی بنوالیں گے۔ تمہارے پاس اس کی تصویر تو ہے نہ،“ دادو نے پھو پھو کو تسلی دی لیکن وہ بھی پریشان تھیں۔


اب قربانی کے گوشت کے تین حصے ہوۓ۔ ایک حصہ اپنا، ایک رشتے داروں کا اور ایک غریب حاجت مندو ں کا۔ گھر کے گیٹ پر گوشت لینے والوں کی قطا ر لگ گٸ۔ گوشت بٹنے لگا لیکن ہر پلیٹ کی کٸ بار تلاشی لی جاتی کہ کہیں گوشت کے ساتھ انگوٹھی بھی نہ چلی جاۓ۔ لگ رہا تھا کہ جیسے وہ لوگ گوشت کی بجاۓ انگوٹھی دے رہے ہیں۔ 

۔”جس گھر سے خوشی سے چیخنے کی آواز آۓ گی۔ انگوٹھی انھی کے گوشت میں ہو گی،“ حذیفہ سب کو اور ڈرا رہا تھا۔ چاچی نے اسے ڈانٹا۔

 عجیب پریشان ذدہ عید گزر رہی تھی۔ ادھر جزل کا رو رو کر برا حال تھا۔ اس کی طبیعت کل رات سے خراب تھی۔ اس کے پیٹ میں درد تھا۔ چاچی نے اسے دوا دی لیکن اسے آرام نہیں آرہا تھا۔ 

  ماما نے بکرے کی کلیجی بھونی لیکن کسی نے زیادہ نہیں کھاٸ۔ سب بچے آنکھو ں کی دوربین بنا کر بھونے گوشت سے بھی انگوٹھی ڈھونڈ رہے تھے۔

عید کی صبح تو قربانی اور گوشت بانٹنے میں گزر گٸ۔ شام کو سب تھک کر آرام کرنے لگے۔ عید کی دعوتوں کا سلسلہ تو اگلے دن سے شروع ہوا۔ آج شام کو رابی پھو پھو کے سسرال والوں کی دعوت تھی۔ صبح سے ہی کچن میں تیاریاں ہو رہی تھی۔ کچے قیمے کے کباب، ران روسٹ، یخنی پلاٶ، اور بہت کچھ تھا اس دعوت کے مینیو میں۔ دادو نے جیولر سے بات کی لیکن اس نے عید کی چھٹیوں کے بعد انگوٹھی بنا کر دینے کا کہا۔ سب خاموش اور پریشان تھے۔ سب اپنے طریقے سے انگوٹھی ڈھونڈ 


رہے تھے۔ وانیہ، آمنہ اور ان کے کزن بھی اب تک ”مشن انگوٹھی تلاش“ میں لگے ہوۓ تھے۔

آخر شام ہو گٸ۔ مہمان آگۓ۔ رابی پھو پھو کی ساس نے تو آتے ہی انگوٹھی کا پوچھا۔

۔”وہ تھوڑی کُھلی ہے۔ کہیں گم نہ ہو  جاۓ اس لۓ نہیں پہنی،“ پھو پھو نے بتایا۔


۔”چلو ابھی تھوڑی دیر کے لۓ پہن لینا،“ 

انھوں نے مسکراتے ہوۓ جواب دیا۔


کچھ دیر میں سب کھانا کھانے لگے تو عین وقت پر جزل نے پیٹ درد کی وجہ سے رونا شروع کر دیا۔ چاچی نے اوپر جا کر اسے پاٹ پر بٹھا دیا لیکن اس کا رونا بند نہیں ہو رہا تھا۔


آخر چاچی نے بچوں سے کہا کہ وہ کہیں سے جزل کی گڑیا ڈھونڈ کر لے آٸیں ۔ وہ کل عید کی صفاٸ میں اٍدھر اُدھر ہو گٸ ہے،“


اب جناب ایک طرف سب دعوت کے بعد باتو ں میں مصروف تھے۔ دوسری طرف جزل پاٹ پر بیٹھی رو رہی تھی اور تیسری طرف وانیہ، عشل اور اریبہ کے ساتھ گڑیا ڈھونڈ رہی تھی کہ اچانک ان کی نظر سٹور میں کھلونوں میں دبی جزل کی گڑیا پر پڑی۔ انھوں نے جلدی سے گڑیا اٹھاٸ تو دیکھا کہ اس کے بازو میں کچھ چمک رہا تھا۔ رابی پھو پھو کی انگوٹھی کسی کڑے کی طرح گڑیا کے بازو میں دھنسی ہوٸ تھی۔ اور اس طرح بچوں کا ”مشن انگوٹھی تلاش“ کامیابی کے ساتھ ختم ہوا۔ جزل اپنی گڑیا دیکھ کر خوش ہو گٸ اور رابی پھو پھو انگوٹھی پہن کر۔

    

 

 

Advertisement