Posts

Showing posts with the label Wania aur Amna ki kahanian

لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ اردو کہانی

Image
 لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے.  اردو کہانی  ایک دفعہ لڑکا کسی شہر میں ایک لڑکا رہتا تھا۔ وہ پڑھائی نہیں کرتا تھا . سارا دن آرام کرتا تھا. یا کھیلتا تھا ۔ اس نے بہت سے نکمے دوست بھی بنا رکھے تھے جن کے ساتھ وہ وقت برباد کرتا تھا. سکول میں استادوں کو تنگ کرنا اور ہر وقت شرارتیں کرنا اس کا پسندیدہ کام تھا۔ اُس کے امی اور ابو اُسے بہت سمجھاتے تھے۔ لیکن وہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا تھا. ایک دن وہ اپنے دوستوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر گھوم رہا تھا کہ وہاں پر پولیس آگئی اور آوارہ لڑکوں کو پکڑنے لگی۔اس کے تمام دوست اس کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور وہ پولیس کے ہاتھ لگ گیا پہلے تو پولیس نے اس کی اچھی خاصی چھترول کی۔ جب اس کے باپ کو پتہ چلا تو گھر آنے کے بعد اس کے باپ نے بھی اسے بہت مارا۔  سکول میں تو پہلے ہی اس کی بہت سی شکایتیں تھیں اسے بہت سے وارننگ لیٹر مل چکے تھے لیکن اب حد ہو گئی تھی اور سکول نے بھی اسے نکال دیا۔ اب وہی دوست جن کے ساتھ وہ وقت ضائع کرتا تھا اسے بچنے لگے اور کہنے لگے کہ ان کے ماں باپ نے منع کیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ نہ گھومے پھریں کیونکہ وہ اچھا لڑکا...

بکرا اور انگوٹھی۔ اردو کہانی ۔ صاٸمہ ندیم

Image
بڑی عید کہانی ”بکرا اور انگوٹھی“ اردو کہانی ۔ صاٸمہ ندیم  بڑی عید کہانی  “بکرا اور  انگوٹھی “  اردو کہانی ۔ صاٸمہ ندیم ۔”میں ۔۔میں۔۔۔مییہ ۔۔۔،“ بکرے کی آواز نے پورا محلہ سر پر اٹھا رکھا تھا۔ سچ میں بہت ہی غصیلہ بکرا تھا۔ پہلے تو بابا نے اسے گیراج میں باندھا لیکن اس نے گھڑکی کے اوپر جو چھلانگیں لگاٸیں کہ رابی پھو پھو کی جان ہی نکل گٸ۔ بس پھر دادا ابو کے کہنے پر بکرے کو صحن میں باندھ دیا۔  اب سارے بچے بکرے کے پیچھے صحن میں آگۓ۔ وانیہ اور آمنہ  ابو کے گھر اسلام آباد آٸ ہوٸیں تھیں اور اب سب کزن بکرے کے ساتھ مزے کر رہے تھے۔  بھی بڑی عید سب کے ساتھ منانے دادا پہلے تو بکرے نے صحن میں لگے امرود کے درخت کے نیچےکے سارے پتے کھاۓ اور پھر  چھلانگیں لگاتا میں۔۔۔میں۔۔۔۔میہ ۔۔۔ کرنے لگا۔    یہ بڑے بڑے دو سینگ، لمبی ٹانگیں ، سفید رنگ اور ماتھے پر کالے بالو ں کی پٹی کے ساتھ وہ ایک شاندار بکرا تھا۔ حمزہ نے تو اس کا غصہ دیکھ کر اس کا نام ”مغل اعظم“ رکھ دیا۔  بابا بازار سے ”مغل اعظم“ کے لۓ چارا لے آۓ۔ ماما نے بکرے کو دینے کے لۓ چنے کی دال پانی میں بھگو ...

اور جب بھڑ نے کاٹ لیا۔ وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں

Image
  اور جب بھڑ نے کاٹ لیا وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں۔ مصنفہ   : صاٸمہ ندیم گرمیوں کی ایک اور لمبی اور بورنگ شام تھی۔ اماں کی ایک ہی رٹ کہ پڑھ لو۔۔۔ پڑھ لو سن سن  کر  کان پک گۓ تھے۔  ٹی وی موباٸل یا کمپیوٹر سب بورنگ لگ رہا تھا۔ اس شام گلی میں بھی کوٸ کھیلنے نہیں آیا۔ اس لۓ ضد کرکے باہر بھی نہیں جاسکتے تھے۔ ”چلو صحن میں جا کر پودوں کو پانی دو اور کچھ تازہ ہوا میں سانس لو،“امی نے حکم دیا۔ وانیہ اور آمنہ صحن میں آگٸیں۔ وانیہ نے ٹوٹی کھولی اور آمنہ پاٸپ سے پودوں کو پانی دینے لگی۔ اس نے شرارت سے پانی وانیہ پر پھینکا۔ وانیہ کو غصہ آیا اور اس نے پاٸپ لے کر آمنہ کو پورا ہی نہا دیا۔ اب وہاں پانی سے لڑاٸ ہورہی تھی ۔ آمنہ اپنے آپ کو بچانے اے سی کے باہر والے یونٹ کی طرف بھاگی او وہاں سے وانیہ پر پانی پھینکا۔ وانیہ نے بھی بدلہ لیا اور جلدی سے اپنی ساٸیکل کے پیچھے چھپ گٸ۔ ماما اندر کچن میں ان دونوں کے لۓ کچھ اسنیکس بنا رہی تھیں اور ساتھ ساتھ انھیں شرارت کرنے سے منع کر رہی تھیں۔ ابھی تو ان دونو  ں کے ہنسنے کی آوازیں آرہی تھیں کہ اچانک وانیہ کے زور سے چیخنے اور رونے کی آوا...

عید الفطر کا چاند غائب کردو - وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں

Image
 عید الفطر کا چاند غائب کردو   'کسی کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ یہ کیا ہو رہا تھا- رمضان کا آخری ہفتہ شروع ہوتے ہی کوئ شخص عید الفطر چھوٹی عید کی تیاریوں کو برباد کرنے کی کوشش کر رہا تھا- پہلے تو اچانک پورے ملک کے بینک کسی نے ہیک کر لۓ تاکہ لوگوں کو عید سے پہلے تنخواہ نہ مل پاۓ اور وہ عید کی خریداری نہ کر پایئں- حکومت نے مشکل سے اس مسئلے پر کچھ قابو پایا توعید سے ایک روز پہلے پورے ملک کے پٹرول پمپ کا نظام ہی بیٹھ گیا- عید کرنے دوسرے شہروں کو جانے والے لوگ راستے میں ہی پھنس گۓ- عید کے لۓ فراہم ہونے والا سامان بازاروں تک نہ پہنچ سکا- بازاروں میں گوشت، سبزی اور مصالحہ جات کی قلت ہوگئ- سب لوگ بہت پریشان تھے-وانیہ اور آمنہ بھی مشکل سے عید سے ایک دن پہلے اپنی دادا جان کے گھر پہنچ پائیں تھیں- وہاں بھی سب ہی اس صورتحال سے پریشان تھے- 'ہم کل راستے میں تھے تو اچانک پورے ملک کے پٹرول پمپ کا نظام بیٹھ گیا- ہم لوگوں نے افطار بھی راستے میں کیا- آمنہ نے بھی بہت زیادہ تنگ کیا- وہ بہت تھک گئ تھی- وہ تو شکر ہے کہ عید کا چاند نظر نہیں آیا ورنہ تو ہم وقت پر پہنچ بھی نہ پاتے،' وانیہ نے اپنی ک...

سکول میں ویکسین لگانے آۓ۔ وانیہ اورآمنہ کی کہانیاں

  سکول میں ویکسین لگانے آۓ ۔ وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں ،'نہیں ، نہیں٠٠٠٠ مس مجھے جانے دیں۔ نہیں۔۔۔۔' 'میری ماما نے بھی منع کیا تھا لیکن آپ میری بات ہی نہیں سن رہیں۔' آپ کی ماما نے اجازت نامے پر دستخط کر دیۓ تھے اور اس کی تصویر واٹس' ایپ کردی تھی۔ چلیں اب آگے ہوں باقی بچوں کو بھی قطار میں آنا ہے۔ آپ رو رو کر سب کو پریشان کر رے ہیں،'۔ اذلان کچھ دیر کے لۓ خاموش ہوگیا اور اپنی ہمت بندھانے لگا۔ لیکن جیسے ہی قطار میں سے دو بچے کم ہوۓ اور پیچھے والے بچے آگے کھسکے تو پھر ڈر کر کانپنے اور چیخنے لگا۔ کچھ ہی دیر میں اس کی باری بھی آنے والی تھی۔ اذلان کچھ خیال کریں۔ کتنا لمبا قد ہے اور اچھے خاصے صحت مند بھی ہیں' ساتویں جماعت میں آکربچوں کی طرح رو رہے ہیں۔  وہ دیکھیں چھوٹے بچے بھی ہنس رہے ہیں'۔ مس زینب نے اسے ڈانٹا۔ 'کچھ نہیں ہوگا۔ آپ کو پتہ بھی نہیں چلے گا۔' وہاں اذلان ہی نہیں بہت سے اور بچے بھی پریشان کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ جو بچہ فارغ ہو جاتا وہ اپنا بازو پکڑے آہستہ آہستہ جماعت کی طرف جاتا۔ 'بالکل بھی درد نہیں ہوا' 'بس تھ...

دانت گم ہو گیا اب دانتوں کی پری کیا کرے-Urdu Kahani- Dant gum ho gya

Image
 Dant Gum ho gya- danton ki pari kya krey Wania aur Amna ki kahanian دانت گم ہو گیا اب دانتوں کی پری کیا کرے   'دیکھیں میرا دانت ہل رہا ہے- یہ دیکھیں نیچے والا دانت ہے،' آمنہ خوشی سے پورے گھر کے چکر لگا رہی تھی-   'ماما یہ دانت کتنے دن میں ٹوٹے گا- اب   دانتوں کی پری رات کو میرے تکیے کے نیچے بھی پیسے رکھے گی جیسے وہ آپی کے تکیے کے نیچے رکھتی ہے- مجھے دانتوں کی پری کتنے پیسے دے گی؟،' آمنہ کو دانت کے درد کی پرواہ نہیں تھی- 'اچھا آپ اس دانت کو ہلائیں نہیں- اب آپ زیادہ کھانا کھائیں، پھل کھائیں جیسے کہ سیب وغیرہ- آپ کا دانت خود ہی ایک دو دن میں ٹوٹ جاۓ گا،' ماما نے پیار کرتے ہوۓ آمنہ کو سمجھایا- 'بابا دیکھیں میرا دانت ہل رہا ہے-' آمنہ نے بابا کو دفتر سے گھر آتے ہی بتایا-   'واہ بھئ، میری گڑیا تو بڑی ہو گئ ہے ماشاء اللہ- اب اس کے دودھ کے دانت ٹوٹنا شروع ہو گۓ ہیں- اب آپ شرارتیں کم کیا کریں اور اچھا اچھا پڑھا کریں،' بابا نے خوش ہو کر جواب دیا- 'دودھ کے دانت ۔۔۔ وہ کیا ہوتے ہیں اور بابا نے یہ تو کہا ہی نہیں کہ دانتوں کی پری مجھے پیسے دے گ...