Posts

Showing posts with the label Urdu stories for kids

ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اردو کہانی

Image
 ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ اردو کہانی مصنفہ :یشفین  جماعت :ہفتم اے

جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ اردو کہانی بچوں کے لۓ

Image
 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔  Tit For Tat اردو کہانی بچوں کے لۓ صاٸمہ ندیم ایک دفعہ ایک جنگل میں بہت سے جانور مل جل کر رہتے تھے جب جنگل کے بندروں نےجنگل کے بادشاہ شیر سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگل کے اس حصے میں رہنے والی گلہریوں کو یہاں سے نکال دیں کیونکہ  گلہریوں کے درختوں پر چڑھنے اور اُترنے کی وجہ سے بندر اور ان کے بچوں کو مشکلات ہوتی ہیں اور دوسرا وہ گلہریاں ان کے کھانے کی چیزیں بھی اٹھا لیتی ہیں۔ ایسا جنگل میں پہلے  کبھی نہیں ہوا تھا ۔ سب جانور مل جل کر رہتے تھے۔ بندروں کا یہ مطالبہ سن کر گلہریاں بہت پریشان ہوئیں۔ بندروں کے شیر بادشاہ کے وزیر لومڑی کے ساتھ تعلقات اچھے تھے اس کے علاوہ وہ اپنی چاپلوسی میں بھی مشہور تھے۔گلہریاں جانتی تھیں کہ حق پر ہونے کے باوجود بھی فیصلہ ان کے خلاف آۓ گااور ایسا ہی ہوااور گلہریوں کو جنگل کے دوسرے حصے میں جانے کا کہا گیا۔اس فیصلے کو جنگل کے باقی جانوروں نے بھی پسند نہ کیا لیکن وہ بھی بندروں کی بدمعاشی سے خوفزدہ تھے۔آخر گلہریوں کو جنگل کے دوسرے حصے میں منتقل ہونا پڑاجو کہ درمیان کے حصے کی طرح سر سبز نہیں تھااور انسانی آبادی سے بھی بہت دور ...

جس کا کام اس کو ساجھے۔ اردو کہانی

Image
جس کا کام اسی کو ساجھے۔ اردو کہانی صائمہ ندیم  ایک آدمی کی گاڑی خراب ہو گئی۔اس نے گاڑی کا بونٹ کھول کر دیکھا تو اسے لگا کہ کچھ انجن کا کام ہے۔اس نے سوچا کہ اگر وہ مکینک کے پاس گیا تو وقت بھی ضائع ہو جائے گا اور کافی زیادہ پیسے بھی لگ جائیں گےکیوں نہ میں یوٹیوب سے ویڈیو دیکھوں اور گاڑی خود ٹھیک کرنے کی کوشش کروں۔آخر اس نے یوٹیوب سے ویڈیو دیکھنا شروع کیں اور کچھ ہی دیر بعد اسے احساس ہوا کہ اب تو اسے گاڑی ٹھیک کرنا آ گئی ہےوہ خواہ مخواہ ہی اتنے پیسے مکینک کے پاس جا کے ضائع کرتا رہا ہے۔بس چھٹی کے دن صبح ہی اس نے اپنی گاڑی کا بونٹ کھولا اور گاڑی کاکام شروع کر دیا۔ دیکھتےہی دیکھتے اس نے گاڑی کے کافی پرزے نکال کر باہر رکھ د یے۔اب اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی جب وہ ایک تار کو دوسری سے جوڑتا یا پرزہ واپس رکھتا تو اسے سمجھ نہیں آتی۔ کچھ ہی دیر میں وہ تھکنے لگا لیکن اس نے پھر وڈیوز چلاٸیں اور اپنے حساب سے گاڑی کو ٹھیک کر دیا۔ اب باری تھی گاڑی سٹارٹ کرنے کی تو جیسے ہی  اس نے گاڑی سٹارٹ کی تو انجن سے دھواں نکلنے لگا۔ گاڑی بھی سٹارٹ ہو کر بند ہوگٸ۔ وہ بہت پریشان ہوا ۔ تبھی اس کا بھاٸ جو کافی ...

لالچ بُری بلا ہے۔ اردو کہانی۔ صاٸمہ ندیم

Image
  لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی۔ صاٸمہ ندیم ایک دفعہ دو دوست بازل اور شہروز کمپیو ٹر ہیکنگ اورنۓ سافٹ وٸیرز بنانے کے بہت ماہر تھے۔ انھو  نے ملکر ایک سافٹ وٸیر تیار کیا جس کی مدد سے حکومت کو ملکی کاموں میں بہت مدد مل سکتی تھی۔ وہ اپنے سافٹ وٸیر کو لے کر مختلف اداروں کے پاس گۓ ۔ ہر ادارہ انھیں منہ مانگی قیمت دینے پر تیار تھا۔ آخر کافی سوچ بچاراور چھان بین کے بعد انھوں نے ایک ادارے کو چن لیا۔ وہ  سافٹ وٸیر بیچنے ہی والے تھے کہ ان میں سے ایک دوست کو ایک فون آیا جس میں اسے سافٹ وٸیر کے بدلے ایک بہت بڑی رقم کی پیش کش کی گٸ۔اس دوست نے اس پر سوچا تو لالچ اس پر غالب آگٸ۔  ۔”آخر زیادہ کام میں نے ہی کیا تھا۔ شہروز تو خواہ مخواہ حصے دار بن رہا ہے“۔ بازل نے سوچا اور فیصلہ کر لیا۔ اس نے اپنے دوست سے مشورہ کۓ بغیر  سافٹ وٸیر کو ایک دوسری کمپنی کو بیچ دیا۔ ساتھ ہی ایک بہت بڑی رقم کے اس اکاٶنٹ میں آگٸ۔ ا  شہروز تو بازل  کے دھوکے پر بہت رنجیدہ ہوا لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔اس نے بازل دوست کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیا۔ چند دن ہی گزرے تھےکہ پولیس نے بازل کو گرفتار کرلیا کیو...

لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی ۔ صاٸمہ ندیم ے

Image
لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی صاٸمہ ندیم   یہ کیا مطلب ہے اس گیم کے ساتھ سردیوں کی چھٹیاں تھی اور ماریہ کے گھر اس کے کزن رہنے کے لیے ائے ہوئے تھے۔اس شام دادا ابو نے مالمالٹوں کی بوری منگوائیتاکہ ان کے سارے پوتے پوتیاں خوشی سے مزے کریں۔ لیکن ماریہ بالکل بھی خوش نہیں تھی۔سب بچوں کو دو دو مالٹے ملے جو سب نے خوشی سے کھائے۔ ماریہ نے ضد کرکے تین مالٹے لۓ۔ مالٹے کافی بڑے اور رزدار تھے بچوں کا پیٹ بھر گیا لیکن ماریہ نے نہ صرف اپنے بھاٸ کا مالٹا بھی کھا لیا بلکہ دو مالٹے اور بھی چھپا لیے۔ رات کو جب سب سو گئے تو ماریا اٹھی اور اس نے اپنے چھپائے ہوئے دونوں مالٹے کھا لیے۔  وہ سونے جا رہی تھی کہ اسے اچانک خیال ایا کہ کل تو اس کے کزن باقی مالٹے کھاٸیں گے اور وہ ایسا نہیں چاہتی۔ اس کے پیٹ میں جگہ نہیں تھی لیکن اس نے صرف اس لۓ بوری سے اور مالٹے چرا کر کھاۓ کہ کوٸ اور نہ کھا لے۔ اسے بہت مشکل سے نیند آٸ لیکن جب جب صبح اد کی آنکھ کھلی تو ا سے اٹھا نہیں جا رہاتھا کیونہ اسے تیز بخار تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے نمونیہ ہو گیا ہے۔ وہ کٸ دن تک بیمار رہی۔ باقی پوری سردیاں اسے کھانے میں صرف سوپ اور نر...

دودھ کی پتیلی فرج کی ملکہ

Image
    فریج کی ملکہ دودھ کی پتیلی۔اردو کہانی بچوں کےلۓ مصنفہ :صاٸمہ ندیم ۔”اس فرج میں ہر چیز میری مرضی کے مطابق رکھی جاتی ہے۔ میں ہوں مالکن کی چہیتی ٹھنڈی چمکدار دودھ کی پتیلی ۔اس فرج کی ملکہ! اس فرج کے سب سے اوپر والے خانے میں ہمیشہ میرا قبضہ ہوتا ہے اور میرے ساتھ صرف کبھی کبھار دہی کا ایک چھوٹا سا ڈونگا ہی رکھا جا سکتا ہے یا کبھی کبھار اجازت ہو تو میں اپنے ساتھ کوئی مٹھائی کا ڈبہ رکھنے کی اجازت دیتی ہوں“ ۔  نہیں نہیں بالکل نہیں یہ بڑا سا تربوز بالکل میرے ساتھ نہیں آسکتا فرج کی پتیلی نے اپنے اپ کو اور پھیلایا اور جب مالکن نے فرج کھولا اور اس کے  .ہاتھ میں ایک بڑا سا تربوز تھا مالکن نے کچھ دیر کوشش کی۔ اس کے نیچے والے خانے میں شہزادہ آٹے کا ڈبہ اور سالن کا ایک ڈونگا تھا ۔تربوز کی باری اس کے نیچے والے خانے میں آئی جہاں پہلے ہی پھلوں کے شاپر تھے۔ مالکن نے شاپروں کو اور دھکیلا اور تربوز کی جگہ بنا دی۔  اور اس کے نیچے ٹوکری میں بہت ساری سبزیاں اوپر نیچے پڑی ہوئی تھیں ۔  تربوز وہاں پر بہت تنگ ہو رہا تھا ۔تربوز نے ارد گرد کا جائزہ لیا تو اسے احساس ہوا کہ فرج میں نی...

چوہوں کی نانی چڑیل۔ اردو کہانی

Image
 چوہوں کی نانی چڑیل۔ اردو کہانی صاٸمہ ندیم وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں # تیز بارش،طوفان، طویل لوڈ شیڈنگ اور گھپ اندھیرے نے ہر طرف عجیب ہیبت ناک ماحول بنا دیا تھا۔ رات کے دس بجے تھے۔ بجلی کی کڑک اور بادلوں کی گرج سے ڈرتی آمنہ کہیں سے ایک موم بتی ڈھونڈکر لاٸ اور دونوں بہنوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کو ڈراٶنی کہانیاں سناٸیں گی۔ زیادہ ڈرنے والا ہار جاۓ گا۔ پہلی باری آمنہ نے لی۔ ۔”بہت عرصے پہلے کی بات ہے ایک جگہ ایک گنجی چڑیل رہتی تھی۔وہ چاہتی تھی کہ سب لوگ گنجے ہو جائیں۔ ایک دن اس نے بازار میں ایک شیمپو بیچا جو لوگ لگاتے تھے تو وہ گنجے ہو جاتے تھے۔وہ بہت خوش ہوئی کہ اب سب لوگ گنجے ہو جائیں گے لیکن کچھ دیر میں اس کی آنکھ کھل گئی کیونکہ یہ تو خواب تھا۔چڑیل کو بہت غصہ آیا اس نے سوچا خواب سچ ہوگا اس لیے میں ایک ایسا شیمپو بناؤں گی اس نے ایک شیمپو بنایا اور بازار میں بیچا لیکن لوگوں کے بال تو لمبے آنے لگ گئے۔چڑیل نے خود وہ شیمپو  خودلگایا تو اس کی گنج اور بھی چمکنے لگ گئی۔اب لوگ اسے ”بلب والی چڑیل“ کہتے ہیں۔ وانیہ کو بہت غصہ آ رہا تھا۔ اب اس کی باری تھی۔ ۔”بہت سال پہلے ایک جنگل میں ا...

لاہور کی نہر کا جنوں والا درخت۔ اردو کہانی بچوں کے لۓ

Image
لاہور کی نہر کا جنوں والا درخت۔ اردو کہانی بچوں کے لۓ ۔”ارے تم لوگ پھر وہی کہانی سننے کی ضد کرنے لگے جب مسلمان جنوں کا خاندان میرے اوپر آکر آباد ہوگیا تھا حالانکہ میرے پاس گزرے وقت کی اور بھی بہت سی کہانیاں ہیں“۔ لاہور کی نہر کنارے کھڑےساڑھے تین سو سالہ پرانے برگد کے بوڑھے درخت نے سوچتے ہوۓ کہا۔  ۔”ہاں اور جب اس خاندان کے ایک جن بچے نے ایک انگریز کو پتھر مار دیا تھا وہی والی کہانی۔۔۔“۔ آج چاند کی چودہویں روشن رات تھی اور چڑیا،مینا، کبوتر اور طوطوں کے بچے برگد درخت چاچا سے کہانیاں سننے آۓ تھے۔ برگد درخت چاچا انھیں بتاتے کہ  ۔”جب میں جوان تھا تو مغل شہزادیاں یہاں پانی سیر کرنے آیا کرتی تھی۔ اور دیر تک میری چھاٶں میں بیٹھی نہر کے پانی میں اپنے خوبصورت پاٶں مارتی رہتی تھیں۔ میرے آس پاس چھپن چھپاٸ کھیلا کرتی تھیں۔ اور ایک دفعہ تو ایک شہزادی نہر کے پانی میں گر پڑی۔بس میری پانی میں پھیلی ایک جڑ نے اسے بچایا لیکن  پھر ایک شہزادے نے نہر میں ڈبکی لگاٸ ا ور میری  تعریف اورکوشش اپنے نام کر لی۔ مجھے بہت ہی افسوس ہوا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ شہزادی مجھے پسند کرتی تھی اور۔۔۔“۔ ۔” ہمیں پ...

وقت کا خوفناک پرندہ۔ اردو کہانی۔ وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں

Image
وقت کا خوفناک پرندہ۔  اردو کہانی۔  وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں  آمنہ اوروانیہ داداابو کے گھر اسلام اباد میں چھوٹی عید منا کرواپس آ رہی تھیں اور دونوں بہنیں کافی اداس تھیں۔ دونوں بہنیں سوتے جاگتےباہر کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اپریل کا مہینہ تھا اور باہر کافی خوشگوار ہوا چل رہی تھی۔تیز چلتی ہوا اور گاڑیوں کی رفتار کی وجہ سے سڑکوں کے کنارے پتے اور کاغذ اڑنے لگتے تھے ابھی وہ جہلم کے پاس پہنچے تھے دونوں طرف پتھریلا پہاڑی راستہ تھا آبادی نہ ہونے کے برابر تھی کہ اچانک  ایک لال رنگ کا کاغذ اڑتا ہوا آیا اور ان کی کھڑکی سے چپک گیا۔  کچھ اورکاغذ بھی ان کی کھڑکی پر چپک گۓ۔ ان پر عجیب بھوت جیسی شکلیں اور نقشے بنے ہوۓ تھے۔ سڑک پر گاڑیوں کی جگہ گھوڑے چل رہے تھے۔ لوگ تلواریں لے کر جنگ کرنے جارہے تھے۔ گھوڑے ہنہنا رہے تھے۔ لوگ زخمی تھے۔کچھ لوگ درد سے کراہ رہے تھے جیسے وہ مرتے اور بھوت بن جاتے۔  دونوں نے زودار چیخ ماری کہ بابا کو بریک لگانی پڑی۔  ۔”بابا ہماری کھڑکی پر بھو ت تھے۔ ہماری سڑک پر پرانے زمانے کی جنگ ہورہی تھی اور لوگ مر کربھوت بن رہے تھے“۔ دونوں بولیں۔  ۔”اور د...

چیل کی شادی سکول اور نوڈلز کی دیگ۔اردو کہانی بچوں کے لۓ۔ سکول گپیاں

Image
 چیل کی شادی، سکول اور نوڈلز کی دیگ۔ سکول گپیاں۔. schoolgapian  اردو کہانی  ہر سکول کی طرح اس سکول کے گراٶنڈ کے کنارے ایک بلند درخت تھا۔ جس کےسب سے اوپر والی شاخ پر چیلوں کا بہت بڑا گھونسلہ تھا۔اس گھونسلے میں ایک چیلوں کا خوبصورت سا خاندان رہتا تھا۔ چیل کا ایک  بیٹا تھا وہ بہت ہی پیارا اور شرارتی تھا ۔چیلوں کا وہ بچہ سارا دن سکول کے بچوں کو اسمبلی کرتے، کھیلتےاور پڑھتے دیکھتا  رہتا تھا۔ اور آدھی چھٹی کے وقت اپنے بہن بھاٸیوں کے ساتھ مل کر سکول کے بچوں سے ان کے لنچ بھی اچک لیتا تھا۔ وہ مزیدار چپس کے پیکٹ اور ڈھیر سارے نوڈلز تو اس کے پسندیدہ تھے جو وہ بچوں سے چھین کر اپنے گھونسلے میں بیٹھ کرکھاتا اور سوچتا کہ کاش یہ سارے بچے اس کے دوست بن جاٸیں ۔ وہ سب اس کی شادی میں بھی آٸیں۔ جو کہ جلد ہونے والی تھی۔ لیکن بچے تو چیلوں سے ڈرتے تھے۔    تھا۔ وہ کہتے تھے کہ یہ چیل  تو ہمیں کھا جائے گی۔کیونکہ ہم سب کو بچپن میں ماں باپ کہتے تھے کہ چیل چھوٹے بچوں کو اٹھا کر اپنے گھونسلے میں لے جاتی ہے۔ چیلوں کو چمکدار اور خوبصورت چیزیں اپنے گھونسلے میں جمع کرنے کا شوق...

لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ اردو کہانی

Image
 لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے.  اردو کہانی  ایک دفعہ لڑکا کسی شہر میں ایک لڑکا رہتا تھا۔ وہ پڑھائی نہیں کرتا تھا . سارا دن آرام کرتا تھا. یا کھیلتا تھا ۔ اس نے بہت سے نکمے دوست بھی بنا رکھے تھے جن کے ساتھ وہ وقت برباد کرتا تھا. سکول میں استادوں کو تنگ کرنا اور ہر وقت شرارتیں کرنا اس کا پسندیدہ کام تھا۔ اُس کے امی اور ابو اُسے بہت سمجھاتے تھے۔ لیکن وہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا تھا. ایک دن وہ اپنے دوستوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر گھوم رہا تھا کہ وہاں پر پولیس آگئی اور آوارہ لڑکوں کو پکڑنے لگی۔اس کے تمام دوست اس کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور وہ پولیس کے ہاتھ لگ گیا پہلے تو پولیس نے اس کی اچھی خاصی چھترول کی۔ جب اس کے باپ کو پتہ چلا تو گھر آنے کے بعد اس کے باپ نے بھی اسے بہت مارا۔  سکول میں تو پہلے ہی اس کی بہت سی شکایتیں تھیں اسے بہت سے وارننگ لیٹر مل چکے تھے لیکن اب حد ہو گئی تھی اور سکول نے بھی اسے نکال دیا۔ اب وہی دوست جن کے ساتھ وہ وقت ضائع کرتا تھا اسے بچنے لگے اور کہنے لگے کہ ان کے ماں باپ نے منع کیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ نہ گھومے پھریں کیونکہ وہ اچھا لڑکا...

وہ سکول کی شرارتیں۔ schoolgapian اردو کہانی

Image
    وہ سکول کی شرارتیں۔  اردو کہانی  #Schoolgapian- سکول  گپیاں ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک سکول  میں ساتویں جماعت کی کچھ لڑکیاں بہت شرارتی تھی وہ بہت نرالے کام کرتی تھیں۔ ایک دن آدھی چھٹی کے وقت جب جماعت کی ساری لڑکیاں جماعت سے باہر گئیں تو انہوں نے سب کی پانی کی بوتلیں ادهر اُدھر کر دیں جب  بر یک ختم ہوئی تو ساری لڑکیاں جب جماعت میں آئیں تو انہوں نے دیکھا کہ سب کی بوتلیں ان کے بستے میں نہیں ہیں۔ انہوں نے استانی کو بتایا کہ جماعت کے شرارتی گروہ نے یہ حرکت کی ہے۔ پھر استا نی نے ان سب کی سرزنش کی لیکن ان لڑکیوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا انہوں نے بہت کارنامے انجام دیے ۔بیڈ گرل سےبدتمیزی کی پھر ہیڈ گرل نے سیکشن بیڈ استاد کو بتا دیا اور پھر سیکشن بیڈ ستادنے جماعت میں آکر ان کی اچھی سرزنش کی ۔ وارننگ لیٹر دیا اور انہیں بیڈ گرلز سے معافی مانگنے کا کہا ۔پھر کچھ دن سکون سے گزرے پر پھر  سکول کی ایک پارٹی آگئی لیکن پارٹی میں گھر سے موبائل وغیرہ لانے کی بالکل اجازت نہیں تھی اور استانی نے سختی سے منع کیا تھا لیکن وہ گروپ کہاں منع ہونے والا تھا ۔ نہ صرف اس گروپ کی ...

کھودا پہاڑ نکلا چوہا۔ضرب الامثل کہانی

Image
جماعت ہفتم میں ضرب الامثال کی مدد سے کہانیاں لکھنے کا مقابلہ ہوا جس میں عبد الہادی مجید کی کہانی بہترین آٸ  کھودا پہاڑ نکلا چوہا ایک د فعہ ایک گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا جس کا نام رحیم تھا۔ رحیم محنتی  تھا لیکن عقل کی کمی کا شکار تھا۔ وہ ہمیشہ کچھ بڑا کرنے کے خواب دیکھتا تھا، مگر جب کبھی کوئی منصوبہ بناتا تو نتیجہ ہمیشہ مضحکہ خیز نکلتا. ایک دن رحیم نے سوچا کہ کیوں نہ ایک پہاڑ کھود کر اس میں سے سونے کے سکے نکالے جائیں۔ اس نے گاؤں والوں کو بتایا کہ وہ پہاڑ کو کھودے گا اور سونا نکالے گا، تو سب نے ہنستے ہوئے کہا، رحیم، یہ کیا فضول بات ہے! پہاڑ کھودنے میں کتنا وقت اور محنت لگے گا؟ لیکن رحیم نے کسی کی بات نہیں سنی اور اپنی کھدائی کا آغاز کر دیا۔ اس نے ایک بڑی کدال لی اور پوری طاقت سے پہاڑ کی طرف بڑھا دن رات محنت کرتا رہا اس کی آنکھیں نیند سے بھری رہتیں، لیکن اس کا عزم پختہ تھا۔ کئی مہینے گزر گئے اور رحیم کی محنت جاری رہی۔ گاؤں کے لوگ روز اس کے پاس آئے اور مزاحیہ انداز میں کہتے، رحیم بھائی، اب کیا نکلا؟ سونے کے سکے یا چاند کی روشنی؟ رحیم ہر بار بڑے یقین سے کہتا، "بس ابهی تهوڑا اور کھ...

قاسم کی کاپی۔ سکول گپیاں۔ صاٸمہ ندیم

Image
سکول گپیاں # #schoolgapian  قاسم کی کاپی۔  ۔”ماشاءاللہ۔۔۔۔اورآہستہ آہستہ  آٸیں۔۔۔۔ ابھی تو دس منٹ  ہی ہوۓ ہیں۔۔۔۔ پورا پیریڈ گزرنے دیں“۔۔۔ مس ملیحہ دروازے میں کھڑی چیخ رہی تھیں۔ ۔”مس وہ کمپیوٹر لیب سے  ہی دیر سے آۓ ہیں۔ مس ناٸلہ  کاپیاں چیک کر رہی تھیں"۔ ۔”بس ٹیچرز پرڈال دیں سارا ملبہ۔۔۔ جو آدھی کلاس آٸ بیٹھی ہے وہ کیسے آگٸ۔۔۔ اب جو آۓ گا وہ پورا پیریڈباہر  کھڑا رہےگا"۔  مس ملیحہ نے دروازہ بند کر  دیا۔ ۔”کتابیں کھولیں۔۔۔۔ علی نظم کی  پڑھاٸ شروع کریں" ابھی علی نے پڑھنا شروع ہی کیاتھاکہ دھڑام سے جماعت کادروازہ کھلااور حواس باختہ سا قاسم  سامنے کھڑا تھا۔ ۔”چلیں جی ۔۔دیکھیں کون تشریف لایا ہے۔۔۔ کلاس کے ٹاپر بچے بھی دیرسے آٸیں  گے“۔۔۔ ۔”مس میری کمپیوٹر کی کاپی  نہیں مل رہی“۔   قاسم نے حواس باختہ ہو کر بتایا۔   ۔”مل جاۓ گی۔۔۔ابھی بیٹھ کر اردو کا پڑھیں“۔   قاسم پریشان بیٹھ گیا۔ قاسم جماعت کا لاٸق بچہ تھا لیکن عادتاً ہر وقت تھوڑا پریشان رہتا تھا۔ جماعت میں کوٸ اس کا قریبی دوست بھی نہیں تھا۔ ابھی پڑھا ٸ ختم ہی ہوٸ ت...

لاہور کی نقلی بارش۔ اردو کہانی۔

Image
 سکول گپیاں Read funny Urdu Stories #schoolgapian by Saima nadeem. Read Saima Nadeem funny Urdu stories series #schoolgapian- سکول گپیاں  لاہور اور مصنوعی بارش لاہور میں جیسے ہی ایک عرصےکی سموگ کے بعد  آج صبح سویرے بارش ہونے کی آواز آٸ تو جانے انجانے میں ہر لاہوری  کو اس ” آرٹیفیشل رین“ کا خیال آیا جس کا تذکرہ کچھ عرصے سے ہر ٹی وی چینل پر ہو رہا تھا۔ سب کو کہیں نہ کہیں اس تجربے کا انتظار تھا۔  ۔”جی ناظرین لاہور میں گہری سموگ کو ختم کرنے کے لۓ حکومت کل مصنوعی بارش کاملک میں پہلا تجربہ کرے گی“۔ ہر خبر ہمارے ساتھ۔۔۔۔ سب اس خبر کا سوچتے اپنے اپنے کام کو نکلے۔  کچھ دیر بعد سکول میں بھی اسمبلی میں بچے اور استانیاں کھلے آسمان پر گہرے کالے بادلوں اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کی وجہ سے خوشگوار موڈ میں تھے۔ بارش توکب کی رک چکی تھی۔  ۔”کیا صبح سویرے ہونے والی بارش آرٹیفیشل تھی“ ۔؟ تقریباً ہر کسی کے منہ پر یہ سوال تھا۔ ہر کوٸ اپنی عقل اور معلومات کے مطابق تبصرے میں شامل ہونے کے لۓ بے چین تھا۔ ۔”جہازوں کی آواز تو نہیں آٸ جو اوپر جا کر کیمیکل پھینکتے ہیں۔ میں نے سنا ہے ...

ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ ایوارڈ یافتہ کہانی۔

Image
 ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ ایوارڈ یافتہ کہانی۔  کالج میں منعقد کردہ کہانی نویسی کے مقابلے میں طالبہ  عرشیہ نفیس کی کہانی کو پہلا ایوارڈ دیا گیا۔ ایوارڈ یافتہ کہانی ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی مصنفہ :  عرشیہ نفیس                                                                 کہانی نویسی ہر چمکتی ہوئی چیز سونا نہیں ہوتی  ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹی بچی  تھی جس کا نام فاطمہ تھا وہ ایک چھوٹے سے خوبصورت شہر میں رہتی۔ تھی ۔ اس کا چھوٹا سا گھر تھا جو پہاڑوں کے قریب تھا اس کا گھر ایک خوبصورت ندی کے پاس تعمیر کیا ہوا تھا۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی بیٹی تھی۔ مگر وہ زیادہ امیر نہیں تھے۔ لیکن وہ خوشی سے رہتے تھے۔ اس کا گھر درختوں  اور خوبصورت پودوں سے گھرا ہوا تھا ۔ فاطمہ کو اپنا گھر زیادہ پسند نہیں تھا۔ اسے لگا کہ اس کاگھر بہت چھوٹا ہے۔ اور بہت صاف  ستھرا نہیں ہے۔فا طمہ  کو پہاڑوں کا ...

ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ کہانی ۔

Image
 ہفتم جماعت میں اردو کہانی “ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی” کا مقابلہ کروایا گیا۔ تین طلبا حمدان شاہد، محمد حارث، مریم سلیم کی بہترین کہانیوں  کو یہاں شاٸع کیا جا رہا ہے۔ پہلی کہانی   مصنف  : محمد حارث ہم جب کوئی بھی چیز جو کہ مہنگی ہو اور دیکھنے میں شاندار ہو بس اسے پالینے کی خواہش کرتے ہیں۔ اس کے پیچھے کی حقیقت کوئی نہیں جاننا چاہتا ۔ ایسی ہی کہانی علی کے ساتھ ہوئی۔ اس کا خواب تھاکہ وہ ترقی کرے۔ پیسے کماۓ اور وہ بھی  یوٹیوب کے ذریعے ویڈیوز بنا کر ۔ اسے لگا کہ یہ کام تو بہت آسان ہے جیسے ہی وہ ویڈیوز بنانا شروع کرے گا تو بہت سارے پیسے کما لے گا۔ وہ مشہور یوٹیوبر سے بہت متاثر ہوتا تھا۔ ان کے بڑے بڑے گھر اور شاندار گاڑیاں اسے سب یہ چٹکیوں کا کام لگتا تھا۔یہ کام تو عام موباٸل سے بھی ہوسکتا تھا۔ لیکن وہ ایک اچھے والا موبائل لینا چاہتاتھا۔ ایک دن اس کےموبائل پر ایک مشہوری آٸ کہ ایک ویب سایٹ پر اس کی خواہش والا  موبائل براۓ فروخت ہےوہ بھی پانچ لاکھ بیس ہزار کا -یہ رقم اس کے لیے بہت زیادہ تھی حتی کہ اس کی یونیورسٹی فیس سے بھی زیادہ  ۔ خیر علی نے ادھار پکڑا۔...

جن، جادو اور سالگرہ۔ اردو کہانی

Image
  جن، جادو اور سالگرہ۔ اردو کہانی اردو ڈراٶنی کہانی مصنفہ صاٸمہ ندیم : ایان اور عرشین جڑواں بہن  بھاٸ تھے۔ ان کی سالگرہ قریب تھی۔ انھوں نے اپنے بابا سے اس سالگرہ پر کچھ مختلف کرنے کی خواہش کی۔ ان کے بابا نے انھیں کٸ کیک دکھاۓ، بہت سی سجاوٹ کی چیزیں لے کر دیں لیکن وہ خوش نہیں تھے۔ سالگرہ سے ایک دن پہلے ان کے بابا کو شخص کا فون آیا۔ وہ شخص ایک جادوگر تھا اور عرشین اور ایان کی سالگرہ پر بچوں کو جادو دکھانا چاہتا تھا۔ بابا کو کچھ عجیب لگ رہا تھا کہ اس شخص کو سالگرہ کا کیسے معلوم ہوا اور ان کا نمبر کیسے ملا۔ اس جادوگر نے کہا کہ اس نے دکان میں بچوں اور ان کی باتیں سن لیں تھیں اور پھر نمبر بھی لے لیا دکان والے سے۔ جادوگر نے بتایا کہ وہ پیسوں کی بجاۓ سالگرہ کا آدھا کیک لے گا اور بچوں کے لۓ تحفے بھی لاۓ گا۔ بابا کو کچھ عجیب لگ رہا تھا لیکن عرشین اور ایان کی ضد کی وجہ سے وہ مان گۓ۔  آخر سالگرہ کا دن آگیا ۔ عرشین اور ایان کے بہت سے دوست اور کزن بھی آۓ تھے۔ اچانک ایک عجیب شکل والا شخص کالی ٹوپی اور کالا جبہ پہنے سالگرہ میں آگیا۔  اس کے ہاتھ میں ایک بڑا سا محل جیسا گڑیا کا گھر تھ...