Posts

Showing posts from June, 2025

لالچ بُری بلا ہے۔ اردو کہانی۔ صاٸمہ ندیم

Image
  لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی۔ صاٸمہ ندیم ایک دفعہ دو دوست بازل اور شہروز کمپیو ٹر ہیکنگ اورنۓ سافٹ وٸیرز بنانے کے بہت ماہر تھے۔ انھو  نے ملکر ایک سافٹ وٸیر تیار کیا جس کی مدد سے حکومت کو ملکی کاموں میں بہت مدد مل سکتی تھی۔ وہ اپنے سافٹ وٸیر کو لے کر مختلف اداروں کے پاس گۓ ۔ ہر ادارہ انھیں منہ مانگی قیمت دینے پر تیار تھا۔ آخر کافی سوچ بچاراور چھان بین کے بعد انھوں نے ایک ادارے کو چن لیا۔ وہ  سافٹ وٸیر بیچنے ہی والے تھے کہ ان میں سے ایک دوست کو ایک فون آیا جس میں اسے سافٹ وٸیر کے بدلے ایک بہت بڑی رقم کی پیش کش کی گٸ۔اس دوست نے اس پر سوچا تو لالچ اس پر غالب آگٸ۔  ۔”آخر زیادہ کام میں نے ہی کیا تھا۔ شہروز تو خواہ مخواہ حصے دار بن رہا ہے“۔ بازل نے سوچا اور فیصلہ کر لیا۔ اس نے اپنے دوست سے مشورہ کۓ بغیر  سافٹ وٸیر کو ایک دوسری کمپنی کو بیچ دیا۔ ساتھ ہی ایک بہت بڑی رقم کے اس اکاٶنٹ میں آگٸ۔ ا  شہروز تو بازل  کے دھوکے پر بہت رنجیدہ ہوا لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔اس نے بازل دوست کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیا۔ چند دن ہی گزرے تھےکہ پولیس نے بازل کو گرفتار کرلیا کیو...

لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی ۔ صاٸمہ ندیم ے

Image
لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی صاٸمہ ندیم   یہ کیا مطلب ہے اس گیم کے ساتھ سردیوں کی چھٹیاں تھی اور ماریہ کے گھر اس کے کزن رہنے کے لیے ائے ہوئے تھے۔اس شام دادا ابو نے مالمالٹوں کی بوری منگوائیتاکہ ان کے سارے پوتے پوتیاں خوشی سے مزے کریں۔ لیکن ماریہ بالکل بھی خوش نہیں تھی۔سب بچوں کو دو دو مالٹے ملے جو سب نے خوشی سے کھائے۔ ماریہ نے ضد کرکے تین مالٹے لۓ۔ مالٹے کافی بڑے اور رزدار تھے بچوں کا پیٹ بھر گیا لیکن ماریہ نے نہ صرف اپنے بھاٸ کا مالٹا بھی کھا لیا بلکہ دو مالٹے اور بھی چھپا لیے۔ رات کو جب سب سو گئے تو ماریا اٹھی اور اس نے اپنے چھپائے ہوئے دونوں مالٹے کھا لیے۔  وہ سونے جا رہی تھی کہ اسے اچانک خیال ایا کہ کل تو اس کے کزن باقی مالٹے کھاٸیں گے اور وہ ایسا نہیں چاہتی۔ اس کے پیٹ میں جگہ نہیں تھی لیکن اس نے صرف اس لۓ بوری سے اور مالٹے چرا کر کھاۓ کہ کوٸ اور نہ کھا لے۔ اسے بہت مشکل سے نیند آٸ لیکن جب جب صبح اد کی آنکھ کھلی تو ا سے اٹھا نہیں جا رہاتھا کیونہ اسے تیز بخار تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے نمونیہ ہو گیا ہے۔ وہ کٸ دن تک بیمار رہی۔ باقی پوری سردیاں اسے کھانے میں صرف سوپ اور نر...

دودھ کی پتیلی فرج کی ملکہ

Image
    فریج کی ملکہ دودھ کی پتیلی۔اردو کہانی بچوں کےلۓ مصنفہ :صاٸمہ ندیم ۔”اس فرج میں ہر چیز میری مرضی کے مطابق رکھی جاتی ہے۔ میں ہوں مالکن کی چہیتی ٹھنڈی چمکدار دودھ کی پتیلی ۔اس فرج کی ملکہ! اس فرج کے سب سے اوپر والے خانے میں ہمیشہ میرا قبضہ ہوتا ہے اور میرے ساتھ صرف کبھی کبھار دہی کا ایک چھوٹا سا ڈونگا ہی رکھا جا سکتا ہے یا کبھی کبھار اجازت ہو تو میں اپنے ساتھ کوئی مٹھائی کا ڈبہ رکھنے کی اجازت دیتی ہوں“ ۔  نہیں نہیں بالکل نہیں یہ بڑا سا تربوز بالکل میرے ساتھ نہیں آسکتا فرج کی پتیلی نے اپنے اپ کو اور پھیلایا اور جب مالکن نے فرج کھولا اور اس کے  .ہاتھ میں ایک بڑا سا تربوز تھا مالکن نے کچھ دیر کوشش کی۔ اس کے نیچے والے خانے میں شہزادہ آٹے کا ڈبہ اور سالن کا ایک ڈونگا تھا ۔تربوز کی باری اس کے نیچے والے خانے میں آئی جہاں پہلے ہی پھلوں کے شاپر تھے۔ مالکن نے شاپروں کو اور دھکیلا اور تربوز کی جگہ بنا دی۔  اور اس کے نیچے ٹوکری میں بہت ساری سبزیاں اوپر نیچے پڑی ہوئی تھیں ۔  تربوز وہاں پر بہت تنگ ہو رہا تھا ۔تربوز نے ارد گرد کا جائزہ لیا تو اسے احساس ہوا کہ فرج میں نی...