Posts

Showing posts with the label New Urdu poetry by Saima Nadeem

بیٹیاں۔ اردو نظم ۔ poem about daughters

Image
  بیٹیاں۔ اردو نظم ۔  poem about daughters  بٹیاں  چاہ  کی شدت  کیا ہےلمس کی حدت  میری بیٹیوں نے چکھائی مجھے یہ لذت چھپا لوں پروں میں  یا پھیلا دوں آسماں    مہرباں رہے ان پر قطب کی ہر سمت ان کی آنکھوں میں دیکھوں خود کو ان کی ہنسی ہی ٹھہری بس میری اجرت احساس کی مٹی سے گوندھی پیکر جاناں وہ میرے لٸے رحمت، وہی میری نعمت اپنی خوش قسمتی پہ کروں میں رشک مجھے ہے دنیا میں ہی جنت کی بشارت قاٸل ہوں قابلیت کے سب ان کی خود جو چاہیں بنا لیں وہ اپنی قسمت  تھام لیں گی مجھے وہ اور میں ان کو  جو پڑا خدانخواستہ کبھی وقت ضروت  

امی کاگھر۔ اردو نظم ۔صاٸمہ ندیم

Image
  امی کا گھر پھیلی ہوٸ یادیں اور گونجتی آوازیں امی کے گھر جیتی ہیں ماضی کی سانسیں نیم کے درخت کی گھنی چھاٶں کی طرح بانہیں کھول رکھیں محبت بھری دیواریں چھوٹے صحن میں جہاں جلتا تھا اک چولہا   اب کبھی ملتے ہیں بچھڑے بھاٸ اور بہنیں کہیں ہے دبی مانوس خوشبو بچپن کی یاد کراۓ بے فکر کھیل اور تپتی  شامیں روزگار اور رواجوں سے رخصت ہوۓ مکیں  مہماں بنے بس کچھ چھٹیاں یہاں گزاریں ابو کا گھر کب امی کا گھر بن جاتا  بنا کاغذ یہ سلسلے ساری گرد جھاڑیں بوڑھے ماں باپ کھو جاتے ہیں تو کیوں  ویران ہو جاتی ہیں وہی گلیاں وہی راہیں ہمیشہ امی کے گھر کی رونقیں نہیں رہتیں پھر نہیں دیتا کوٸ جھولی بھر کے دعاٸیں صاٸمہ ندیم

Staffroom poetry in Urdu-سٹاف روم اردو نظم

Image
 Staffroom poetry in Urdu- سٹاف روم اردو نظم کتابوں، کاپیوں اور الماریوں سے گھرا ایک سٹاف روم استادوں سے بھرا مستقبل کی نسلوں کو سنوارنے والے یہیں بستے ہیں بنیادیں بنانے والے ہو رہی ہوتی ہے ایک طرف تکرار دوسرے سرےمیں قہقہوں کی بہار سینیئر استادوں کی سنجیدہ جھاڑ  سُن جونیر نظر آتے وہیں ہر پل بیزار نصاب اور نصابی باتیں رہیں پورا سال بھگتے میٹنگز اور پالیسیوں کا جال چائے کا گرم کپ اور کام بے حساب پھر سے لگتا وہ اک فری پیریڈ جناب کبھی ہو کام زیادہ اور دن بھاری پھرمناتے اچانک چھٹی کی خوشی جذباتی گپ شپ میں بوجھ اتارتے اک دوسرا گھر سمجھ وقت گزارتے یہیں بناتے بناتے طلبہ کے نتیجے  کئی موسم کئی سال استاد پر بیتے کتابوں، کاپیوں اور  الماریوں سے گھرا ایک سٹاف روم استادوں  سے بھرا مستقبل کی نسلوں کو  سنوارنے والے یہیں بستے ہیں بنیادیں بنانے والے صاٸمہ ندیم

میرے دیس کی ہواٸیں۔ پاکستان اردو شاعری

Image
  میرے دیس کی ہواٸیں میرے پرچم کو لہراٸیں دے کر مان آزادی کا گلوں کو ہر سو مہکاٸیں میرا ایمان محبت اسکی جان اس پر واری جاٸیں یوں اونچا کریں نام اسکا  ذرہ  ذرہ مٹی سونا بناٸیں امن ہو مقدم ہر شے پر ہر دشمن کو  مزا چکھاٸیں  امین ہو تم ان سرحدوں کے نٸ نسل کو سبق پڑھاٸیں   جڑ سے اکھڑے تو گر گۓ اپنی مٹی میں قدم جماٸیں  لگن ہو جذبہ ہو گر سچا منزلیں خود ہاتھ تھماٸیں 

بہار آۓ۔ اردو نظم صاٸمہ ندیم

Image
 Bahar Aye is a famous Urdu poem of poet Saima Nadeem. You can read Urdu nazm of poet Saima Nadeem 'bahaar Aye' here.  بہار آۓ گلوں میں پھررنگ بھرو کہ بہار آۓ ہوا میں وہ خوشبو سمو کہ بہار آۓ اکیلا کوٸ نہ سر کر سکا ہے آسماں ایک دوسرےکا سہارا بنو کہ بہار آۓ نظم وضبط کو بنا لو یوں اپنا ہمسفر رہگزرسے ملکر کانٹے چنو کہ بہار آۓ اتفاق میں کیوں اتنی برکت ہوتی ہے یہ سبق پھر سے یاد کرو کہ بہار آۓ مقابلے اور جدت کی فضا اب قاٸم ہو  ایسی حوصلہ افزاٸ کرو کہ بہار آۓ محنت سے سرمایہ کاری کا وقت آگیا اصول پسندی یوں مقدم ہو کہ بہار آۓ دیانت کے بنا اصلاحات ہیں بے فاٸدہ  ساز ترقی کا اور اونچا سنو کہ بہار آۓ آغاز میں کبھی دیر نہیں ہوتی دوست  سوچ سے اک قدم آگےچلو کہ بہار آۓ کامیابی کا کوٸ چھوٹا رستہ نہیں بنا  جذبوں کو پسینہ میں ڈبوکہ بہار آۓ مقرر کرو اہداف تو انکے حصول تک خطروں سے بالکل نہ ڈرو کہ بہار آۓ Bahar Aye is famous poem Urdu nazm from Urdu poetry collection of poet Saima Nadeem. You can read all Urdu poetry collectin, Urdu nazm, Urdu ghazal and Urdu poetry of Saima Nadee...

موسم خزاں۔اردو نظم-شاعرہ صائمہ ندیم

Image
  Urdu Poetry about Autumn Season  موسم خزاں۔اردو نظم   نارنجی سا پیلا رنگ  اوڑھ دیا ہے سورج نے جاہ وجلال چھوڑ دیا ہے دے کر اجازت پِھر سے کِھلنے کی شاخ نے پتوں کو خود سے توڑ دیا ہے  قافلے گرمیو ں کے گزر گۓ رگوں سے   سوکھے پتوں سنگ ناچتا مور دیا ہے کاٸ پر ٹھہری حبس پھسل گٸ وقت نے ایسا دھکا منہ زور دیا ہے شامیں ہو گٸی ہیں گہری اور سرمٸ بستی کےلوگوں نے سونا چھوڑ دیا ہے دہلتے دہلاتے دریا ہو گۓ پرسکون     پُلوں نے بند سے ناطہ جوڑ دیا ہے باغ میں پاٶں تلے کڑکتے پتے جانیں خنک ہوا نے اب اپنا رستہ موڑ دیا ہے ہٹا کر پردہ میں نے بھی بارش کا آخر موسم خزاں کو ڈھونڈ لیا ہے

kitaab. کتاب۔ اردو نظم. book poetry in urdu

Image
پہلے دن جو کھولتے ہیں کتاب kitaab poetry in urdu نظم صاٸمہ ندیم  book poetry in urdu کتاب پہلے دن جب کھولتے ہیں کتاب تصو یریں سکھانے آتی ہیں آداب لڑیوں میں پروۓ ہوۓ سب لفظ الجھی تکراروں کے دیتے ہیں جواب   رہبر کی طرح زینے پار کراتی ہے  گلے ملتا ہے جب بچپن سے شباب اک تصور سے دیکھتے ہیں شہرِزاد ڈھونڈ لیتے ہیں ہر منظر ہر سراب اصول زندگی ہو یا حصول بندگی  کتاب میں ہر عنوان ہے شامل نصاب فلک کو چھو کر سمندر میں اتر گۓ کتاب پروستی رہی پر تجسس باب  کھوج لیتے ہیں جو اسے سوچ کر زندگی سے زر کماتے ہیں بے حساب  ذرخیز نہیں ہوسکتے افکار کے گلزار کتاب ہی کرتی ہے ہر بنجر کو شاداب مہک آتی رہتی ہے ان پھولوں سے تادیر جنہیں استاد اور کتاب بناتے ہیں گلاب  دوستی کر لی جس قوم نے کتاب سے جھک گۓ اس کے سامنے رموز و رباب  پہلے دن جو کھولتے ہیں کتاب  اردو نظم ۔کتاب تجزیہ شاعرہ :اردو نظم کتاب شاعرہ صاٸمہ ندیم نے٢٠٢٢میں لکھی۔ یہ نظم ان کی ویب ساٸٹ چندا ماموں ١٢٣ پر شاٸع ہوٸ۔ اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی شاعرہ صاٸمہ ندیم  اردو نظموں کے علاوہ کٸ اردو اور انگریزی ک...

man mauji-من موجی بن جا۔ اردو نظم

Image
 Read mammauji ban ja on biggest website of Pakistan Urdu point.com A Urdu poem on "man mauji" ban ja on Urdu point.com Read Saima Nadeem famous Urdu poetry Saima Nadeem Urdu Nazm "man mauji" ban ja here. Saima Nadeem is a writer and poet. You can read Saima Nadeem Urdu poetry hhere. If you're looking for an Urdu poetry on topic of hardwork and selflessness then "man mauji ban ja is here". man mauji  urdu poem من موجی۔ اردو نظم صاٸمہ ندیم  سُن تُو من موجی بن جا بہتے پانی کا موتی بن جا نگر نگر گھوم بِن منزل کے  دھوپ سی خوشی بن جا کر جو دل میں آۓ تیرے مقصد کے لۓ روگی بن جا کچھ تو اچھا لکھا ہو گا  قسمت کی جھولی بن جا  غلطیوں سے سیکھے ہر کوٸ آزماٸشوں کی کسوٹی بن جا پرواہ نہ کر فالتو باتوں کی ہوا میں معلق چوٹی بن جا اکھاڑ دے سارے نظریے پرانے    دریافتوں کا کھوجی بن جا لکیر کا فقیر نہیں تو جان لے بادشاہی چھوڑ جوگی بن جا https://www.urdupoint.com/poetry/user-poetry/saima-nadeem-28922/man-moji-ban-ja-15399.html Urdu poem Man Mauji Ban Ja by Saima Nadeem i...

آج اک عجاٸب گھر بستا دیکھا۔ museum poetry اردو نظم

Image
آج اک عجاٸب گھر بستا دیکھا۔ museum poetry in Urdu. اردو نظم اردو نظم عجاٸب خانہ کے بارے میں آج اک عجاٸب گھر بستا دیکھا۔  اردو نظم شاعرہ صاٸمہ ندیم آج اک عجاٸب گھر کو بستا دیکھا تاریخ کو روتے کبھی ہنستا دیکھا تلوار تھامے تھے ٹینک اور ہتھیار جنگ کا جنون روزانہ بڑھتا دیکھا سرگوشیاں کرتے ان فن پاروں میں ماضی اور مناظر کو سسکتا دیکھا نظریہ ضرورت یوں بدل جاتے ہیں ٹوٹے برتنوں کو نودرات بنتا دیکھا وہ مورت تھے، شبہیہ یا حقیقت حنوط ہوۓ تو جن کا سراپا دیکھا شیشوں کے بھید آنکھوں میں اترے پتھر ہوۓ مجسموں کو روتا دیکھا تھے سب ہی دعویدار اس زمین کے ایک ہی رنگ اترتے اورچڑھتا دیکھا یاد رہے علم و انسانیت کے شیداٸ لرزاتے فرعونوں کو اب سوتا دیکھا جھانکا راہداری کے دریچوں سے تو زندگی کو ٹھہرا موت کو چلتا دیکھا آب حیات ملا کسی کو بھی نہ یہاں وہ گزر گۓ اور خود کو گزرتا دیکھا  دل بھی تو عجاٸب گھر ہے دوستو تبھی یادوں کو مٹھی میں سمٹا دیکھا صاٸمہ ندیم

مُلک سے محبت ہے یا نہیں بولو اردو نظم۔ صاٸمہ ندیم۔!

Image
 ملک سے محبت ہے یا نہیں بولو اردو نظم ۔صاٸمہ ندیم ملک سے محبت ہے یا نہیں بولو دشمن کو دشمن سمجھتے ہو یا نہیں بولو یہ بیچ کی بلی نہیں بن سکتے اس کے گریبان تک جا سکتے ہو یا نہیں بولو کیا ہے تمہارا نظریہ محبت پیہم یا ڈگمگاتا جاتا ہے بازی گروں کے ہاتھ بولو سستا ہوتا ہےخون جہاں مٹی سستی اس مٹی کو سونا سمجھتے ہو یا نہیں بولو نہیں چلیں گی اب دو کشتیاں ڈوبنے سے پہلے فیصلہ کرسکتے ہو یا نہیں بولو سوچتے بھی ہو یا صرف گزارتے ہو روز وشب کا حساب کرسکتے ہو یا نہیں بولو نابود ہو جاۓ گا ہر خون آلود ہاتھ  صفوں سے اسے نکال سکتے ہو  یانہیں بولو وطن سے محبت ہے یا نہیں بولو دشمن کو دشمن سمجھتے ہو یا  نہیں بولو  نو بالغ گمراہ کیوں ہوۓ اس وطن کے ذہن ساز کو کٹہرے میں لا سکتے ہو یا نہیں بولو مل کر برباد کیا سب نے اس کو واپسی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہو یا نہیں بولو میں سے ہم کا سفر کرنا ہے اب ہم سے میں کو نکال سکتے ہو یا نہیں بولو  کیا اک اور دھماکے کا ہے انتظار یا  دھماکہ ساز کو کارساز بنا سکتے ہو یا نہیں بولو یاد بھی ہیں وہ آزادی کی داستانیں کچھ آزادی کو غلامی سے بچا سکتے ہو یا ...

یہ سال بھی ایسے تمام ہوا -نظم ۔صاٸمہ ندیم

Image
  وہی آغاز وہی اختتام ہوا  یہ سال بھی ایسے تمام ہوا  ٹھہرے موسم اس طرح چار ہر رنگ نے بناۓ فسانے ہزار پتلی تماشے سارا سال رہے سازشوں کے بنتے جال رہے نہ بنا خلق خدا کا وارث غریبوں پر سے گزرے حوادث چور چور کے شور میں مر گیا  شو پالش لۓ سردی میں بھیگا تھا جو تسبیح کے دانے گرتے رہے مقدس روح کے ترانے بجتے رہے گرتے رہے آنسو سرکار کے محل پر جو بھول بیٹھے حساب اجل پر اس آسماں کےستارے ٹوٹ کر جا بسے پردیس نہ آۓلوٹ کر چادر دیکھ کر پاٶں پھیلاتے رہے پھر بھی بن لیا قرض چکاتے رہے دن رات سوچتے رہے تخت نشین  کیسے ملے دو گز سے زیادہ زمین  حکمرانوں کی بے حسی دیکھ کر عوام ڈھونڈتے رہے گناہ ہاتھ پر یوں آگےکاسفرپیچھے کو مڑا اب تو مداری بھی حیران کھڑا بہت شور مچاتی رہی سوٸیاں   کبھی رُکتی نہیں یہ گھڑیاں   بے ضمیروں کو معجزے نہیں ملتے بغیر سوچ کےصفحے نہیں پلٹتے         

دل جو ٹھہرا تو سکوں دھڑکا تو تلاطم تھا۔ شاعری۔ صاٸمہ ندیم

Image
  دل جو ٹھہرا تو سکوں دھڑکا تو تلاطم تھا نظم ۔  شاعرہ : صاٸمہ ندیم   دل جو ٹھہرا تو سکوں دھڑکا تو تلاطم تھا سوچ کے دریچوں سے آگے میرا دم خم تھا یونہی نہیں پوشیدہ ہوۓ فلک کے ستارے پتھروں سے گزرا جو روشنی کا تصادم تھا شہرِ بے پرواہ کی پروا نہ  کرنی تھی مجھے میرا جنوں تو بس بےجنوں سے متکلم تھا لوہار کی سو سہہ کر کندن بنے تھے ہم سنار کے لبوں پر آیا بے سبب وہ تبسم تھا لگتا نہیں تھا پر خدا وہیں کہیں تھا ہمیشہ قسمت نہ تھی جو سمجھے وہ ستم تھا یونہی محبت میں جان دینے والے نہ تھے  خود غرضی میں بھلے ملا اک نمبر کم تھا کہاں گۓ وہ شعلہ فشاں ادیب و شعرا  جہاں پرانے انداز میں جدت کا ترنم تھا نٸ منزل نیا رستہ دکھانا تھا مجھے وقت سے آگے جو چلا  میں وہ معلم تھا دل جو ٹھہرا تو سکوں۔۔۔۔صاٸمہ ندیم کی ایک اور خوبصورت نظم ہے۔ صاٸمہ ندیم زیادہ تر موضوعاتی شاعری کرتی ہیں جیسے نیند، جھوٹ، من موجی ان کی موضوعاتی شاعری کی مثال ہیں۔ لیکن ”دل جو “ ٹھہرا میں پڑھنے والوں کو رومانوی لیکن پرسوچ انداز نظر آتا ہے صاٸمہ ندیم نے بچوں کے لۓ بھی شاندار نٸ اردو نظمیں لکھی ہیں جو تیزی سے مقبول...

معلوم ہوں میں۔ نظم شاعری۔ صاٸمہ ندیم

Image
اردو نظم Urdu poem on topic of "Death" Maloom Hun Main معلوم ہوں میں ۔ نظم   شاعری۔ صاٸمہ ندیم وقت نامعلوم میں معلوم ہوں میں  لگتی بے رحم اور مظلوم ہوں میں بن چاہی تقدیر کی گہری لکیر بنے فاصلے پر ٹھہری ملزوم ہوں میں دبک دبک پاٶں چلتی پاس آجاٶں فقط چہرے سے محروم ہوں میں اک پردے میں چھی سامنے ہوں تم بےخبر اور معصوم ہوں میں اذان سے شروع ، نماز پر ہوتمام آج مبارک ،کل مرحوم ہوں میں آنکھیں چرا کر روز دیکھنے والے  کفارہ ازل میں مقسوم ہوں میں حیراں نہیں تیری حرصِ دنیا پر بس خاموش اور مغموم ہوں میں چھین کر تیراغرور سر نگوں ہوں حاکم سمجھو یا محکوم ہوں میں سن جو دے دیا وہ سمیٹ لیا  نہ جادو ،نہ علم نجوم ہوں میں حرف راز دو عالم کا بتاٶں تجھے بشر ہے تنہا اور مذموم ہوں میں      “نظم ”معلوم ہوں میں شاعرہ صاٸمہ ندیم کی اردو شاعری میں ایک اور خوبصورت اضافہ ہے۔  “نظم ”معلوم ہوں میں کا مرکزی خیال یہ ہے کہ موت انسان سے ہم کلام ہے کہ کس طرح ہمارا اجل ہر وقت ہمارے سامنے ہے لیکن  ہم سب جانتے ہوۓ بھی   معصوم بنے ہیں۔ خلاصہ حوالہ متن  نظم کا نام مع...

نیند ۔ اردونظم .صاٸمہ ندیم

  Urdu Nazm on the topic of "Neend". Is there any Urdu poem Nazm on the topic of Sleep. Yes here it is . A fresh Urdu Nazm on Neend. نیند اردو نظم  شاعرہ: صاٸمہ ندیم: پراسرار سی دنیا نیند کی آغوش طوفان بے سبب شور بھی خاموش  کوٸ چوٹ لگے نہ آنسو میں درد  ایسے پہاڑ سے گریں دریا مد ہوش دُکھ میں صبر، جنون میں سکون بے ہوشی میں بھی نہ کھوۓ ہوش صحرا زندگی میں گم ہوۓ  اکیلے خوف لاشعور  کے ناچیں بنا پا پوش دبی خواہشیں کرتی پھریں اعلان  چاند کو چھو کر آجاٸیں ماہ روش آنے والے لمحوں کی جھلک کھڑکی  بچپن کی گلی لے جاۓ وہ پرجوش بچھڑوں سے ہوخواب میں ملاقات دونوں جہاں ہوں اک جہت مہ نوش جاگتے تھے تو ظالم تھے بہت جو بے جان ہوۓ وہ سورما بھی باہوش جو کچھ ہے کھلی آنکھوں کے آگے پردے کے پیچھے نہیں وہ ہم گوش زندگی کا داٸرہ مرکز میں گھومے جاگنے سے نیند تک بھاگے ذی ہوش   زندگی ذرا ٹھہر جا تھوڑا آہستہ چل  ہمیں پکارے نیند کا جھونکا بے روش تکیے پر ٹکاۓ سر وقفہ لیا ہے ہم نے ہوتا کیا جو نہ آتا نیند کو لۓ سروش          

لوگ جو سوچتے ہیں وہ بولتے ہیں پھر جو بولتے ہیں کیا وہ سوچتے ہیں -نظم صائمہ ندیم

Image
  لوگ جو سوچتے ہیں وہ بولتے ہیں پھر جو بولتے ہیں کیا وہ سوچتے ہیں ایک نظم لوگ جو سوچتے ہیں وہ بولتے ہیں پھر جو بولتے ہیں کیا وہ سوچتے ہیں سچ کے پاٶں تلے سے کھینچ کر زمیں دھواں جھوٹ کا بے دھڑک چھوڑتے ہیں سمجھیں سب کو پاگل یا بے عقل اس طرح سیدھی بات کو مڑورتے ہیں لفظ کے تیر کمان سے نکل گۓ اب کیا تماشا دیکھنے کو روکتے ہیں عمل کا ردعمل برابر اور بروقت بے فائدہ الزام دوسروں پر تھوپتے ہیں ڈھونڈ کر نۓ الفا ظ دل جلانے کو اپنی اپنی تہہ کے پرت یوں ٹٹولتے ہیں جب نہ ملے دلیل نہ ہی منطق تو گالیوں کے سہارے پھر زبان کھولتے ہیں سمجھیں خود کو بقراط کے استاد بے وزن گفتگو کے پر پرزے تولتے ہیں زبان کی گرہیں ہاتھوں سے نہ کھلیں تلخ لہجے،سسکتے لفظ کب بھولتے ہیں سوچ کر بولو پھر بول کر ٹھہرو کہ گونج کے پرندے سر راہ لوٹتے ہیں اپنی کہی باتیں ہی سامنے ناچیں گدھ اس طرح مکافات عمل نوچتے ہیں سوچ کر کہانیاں  بنا کر نۓ بہروپ آنکھوں دیکھی حقیقت کو ٹوکتے ہیں لوگ جو سوچتے ہیں وہ بولتے ہیں پھر جو بولتے ہیں کیا وہ سوچتے ہیں صائمہ ندیم

واہگہ بارڈر_ اک اردونظم

Image
  واہگہ بارڈر ایک نظم دل کھینچتا ہے ، ہاں دل کھیچتا ہے بارڈر کے پار جانے کی ضد کرتا ہے فلک شگاف نعروں، دلسوز ترانوں میں اک بے ہنگم سی خاموشی کو ترستا ہے کاش کہ دیکھ سکوں وہ محلات اور باغات  کتابوں میں بنی تصویر میں جو ڈھونڈتا ہے جدا ہونا فطرت سے زیادہ ضرورت ٹھہری نبھانے ذمہ داریاں بھاٸ بھاٸ سے کٹتا ہے جھانکنے ماضی کی کھڑ کیوں سے کیونکر   گھر کی بند سرحدوں سے اب سر رگڑتا ہے تہزیب کے کٸ دھارے اُدھر سے شروع تو تاریخ کا بڑا راستہ یہاں سے بھی گزرتا ہے اک ٹانگ پر کھڑا جوشیلا جوان جانے    وحشتِ جنگ میں لگا زخم نہیں بھرتا ہے بکھرتی ہیں سلطنتیں،  کھچ جا تی نئ لکیریں قانونِ قدرت دنیا کا نقشہ کب ایک سا رہتا ہے تناؤ میں لہراتے، بلند فضا میں اٹھے جھنڈے بند گیٹ تو جیسے ان کی سالمیت کوتکتا ہے   لڑنا ہے تو لڑو پھیلی منافق داستانوں سے کھوجو کچھ مثبت، جنون بے وجہ بھڑکتا ہے کھل جاٸیں گے دل تو کھلیں گے دروازے اک  پکا ارادہ ہی نیتوں کو خالص کرتا ہے بھرتے رہیں ان کے اسلحہ خانوں کے اکاٶنٹ دنیا کے ٹھیکیداروں کو تو سکون کھٹکتا ہے بارود سے بھری پیٹیوں سے نہ ب...

زندگی کی کتاب میں کئ باب ہیں- ہر باب میں کہانیاں بے حساب ہیں-اردو شاعری

اردو شاعری صائمہ ندیم   زندگی کی کتاب میں کٸ باب ہیں ہر باب میں کہانیاں بے نصاب ہی  ہر کہانی میں ملےنۓکردار ہیں   اداکاروں کے روپ بے حساب ہیں کچھ پایا لیا کچھ پا نہ سکے کچھ پورے ، کچھ ادھورے خواب ہیں کیسے کہانی سے کہانی بنتی گ حیرت زدہ قلم کے گزرے شباب ہیں عمر کے ساتھ تقاضے بدلتے رہے   کبھی کےسورج، أج کے ماہتاب ہیں سنجیدہ رہی زیادہ یہ زندگی ملے بس کچھ مزاحیہ جذبات ہیں کوٸ ہاتھ پکڑ کر پار لگا گیا کسی نے گراۓ پُل دن رات ہیں زیادہ دعاٶں نے،  کچھ عمل نے بچاۓ عزتوں کے جو بھی باب ہیں کبھی دل دُکھا ، کبھی دُکھا دیا فرشتہ ہونے کے دعوے بے بنیاد ہیں اک مسلسل کوشش رہی زندگی ٹھہرے کہیں تو معاملات خراب ہیں روشنی کی طرح چمکتے آج بھی یادوں میں کچھ لوگ لاجواب ہیں تکلیف نہ ہوٸ جو اترے نقاب حقیقتیں تو  اب بھی حرف راز ہیں جھوٹوں کی ریاست کے دھانے سچ کو دباۓ کھڑے کٸ محراب ہیں یہ وقت بھی گز جاۓ گا مشکل نے سیکھاۓ نۓ انداذ ہیں بچپن ، جوانی اور بڑھاپا ہر چہرے پہ نقش یہ اوراق ہیں ہوا وہی جو رب نے چاہا قسمت کے کھیل عجیب سراب ہیں  غم کو خوشی میں پی گۓ ہم...

سوٹ بوٹ پہنے چور دیکھے- نظم اردو-

Image
  سوٹ بوٹ پہنے چور دیکھے- نظم   سوٹ بوٹ پہنے چور دیکھے بھاشن دیتے مور دیکھے   کچھ سیاست سیاست کھیلتے کچھ دفتر میں، بور دیکھے   ماسک لگاۓ ہمدردی کا جراثیم بانٹتے، بے شعور دیکھے   امانت تھا جو قوم کا خزانہ منی لانڈرنگ زور و شور دیکھے   پرندے اڑتے اور دانہ چگتے   نصیب سمیٹتے، شب و روز دیکھے   نکل جاتا ہے جو حرام ہو پریشان حال بہت، مشہور دیکھے   وقت سے پہلے نہیں تھا ملنا لالچ کے حواری، باغور دیکھے       نصیب سے زیادہ نہیں تھا چلنا   محلوں سی قبرمیں زندہ درگور دیکھے   پھر نہ ملے گا موقع، لوٹ لو میدان میں گرتے شہ زور دیکھے   مزہب کے نام پر لوٹنے والے نفرت پھیلاتے، فتور دیکھے   ہم رہے پھر بھی فدا ان پر حلانکہ زخم ان کے ہر دور دیکھے     چن لیا ان کو، جنھوں نے اپنے ٹھکانے سمندر توڑ دیکھے   یہ بدعنوانی تو نہیں، سسٹم ہے ضمیر کو مارتے، دلسوز دیکھے زمین کا پیٹ بھرتے میں نے بھی کئ سورما اور شہ زور دیکھے     ...