Posts

Showing posts from September, 2025

ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ کہانی محمد طہ

Image
 _ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی_ :مصنف :محمد طہ جماعت  ہفتم بی ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بچہ رہتا تھا اس کا نام شونٹی تھا اس کو ایک ایسی بیماری تھی جس سے اس کے بال کبھی بھی نہیں اگ سکتے تھے اس لیے وہ دوسرے بچوں کے بال دیکھ کر جلتا تھا اس نے ایک دفعہ ایک انسان کو دیکھا اور اس کا نام پوچھا وہ کہنے لگا کہ میرا نام پتنجلی بابا ہے وہ ایک کمپنی کا مالک تھا جس کا نام پتنجلی بابا کے بلے بلے کریم تھا وہ کریم بالوں کو دو منٹ میں اگا سکتی تھی لیکن بچے کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے تو اس نے ان بابا جی کو کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں مگر مجھے بال چاہیے ہیں تنزلی بابا نے کہا کہ اگر تم میرے گھر میں تین دن تک کام کرو گے تو میں تمہیں وہ کریم مفت میں دے دوں گا بچے نے تین دن تک لگاتار محنت سے کام کیا اور اس کو وہ کریم حاصل ہو گئی تو اس نے جب اس کریم کو دو دن تک بالوں پہ لگایا تو کوئی فرق نہ پڑا اور پھر اس نے اس کریم کو بار بار لگایا مگر پھر سے کوئی فرق نہ پڑا کچھ دن بعد اس نے اخبار پڑھی تو پتہ چلا کہ وہ بابا دھوکے باز نکلا تو اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر چمکتی چیز سونا ...
 ملے مجھے چاند اور اک تارا سبز تھا باغ سارا قریب۔ان کے ندی تھی سفیدی جس میں بھری تھی چاند روشن چنکتا تھا تڑقی سے دمکتا تھا تارا کا ہر کونہ  ارکان۔اسلام سے بھرا تھا پوچھا میرا گھر  برف سا سفید اور  

ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اردو کہانی

Image
 ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ اردو کہانی مصنفہ :یشفین  جماعت :ہفتم اے

میں بنا ایک کبوتر۔اردو نظم بچوں کے لۓ

Image
 میں بنا ایک کبوتر۔ اردو نظم بچوں کے لۓ صاٸمہ ندیم میں بنا ایک کبوتر  ڈھونڈنے نکلا نیا گھر دیکھے میں نے پہاڑ برف سے ڈھکے شاندار ان کےبیچ تھی وادیاں بہتی تھی نیلی ندیاں پاس تھیں چھوٹی پہاڑیاں لۓ درخت اور جھاڑیاں ملے مجھے میدانی علاقے سبز فصلوں کے بنے خاکے کچھ دور تھا اک دریا نیلا، میٹھا اور چمکیلا دوست تھا اس کا سمندر نمکین پانی تھا اس کے اندر ملا مجھے دور یوں جزیرہ پانی نے اس کو تھا گھیرا پسند آٸ کچھ سطع مرتفع باقی جگہ سے تھا میں اونچا کیسا تھا دوستو ریگستان ہر طرف ریت کا تھا طوفان  چُنوں کونسی زمینی شکل بتا ٶ آپ مجھے آج یا کل