Posts

Showing posts with the label poetry

علامہ اقبال کے مشہور اشعار- علامہ اقبال شاعری مضامین اور تقاریر کے لۓ

Image
HERE are Allama Muhammad Iqbal most popular poetic lines/verses to be used in speeches, essays and articles. Also make Allama Iqbal posters using these ashaar.اشعار   علامہ اقبال کے  مشہور  اشعار علامہ اقبال برصغیر کے عظیم مسلمان شاعر تھے۔ انھیں شاعر مشرق بھی کہا جاتا ہے۔ علامہ اقبال نے فارسی اور اردو زبان میں روح بیدار کرنے والی شاعری کی۔ علامہ اقبال کے اشعار آج بھی تقاریر ، مضامین اور جلسوں میں استعمال ہوتے ہیں۔ 1 نہیں چیز نکمی کوٸ زمانے میں کوٸ برا نہیں قدرت کے کار  خانے میں Nahi cheez nakami koi zamaney mein koi bura nhi qudrar k karkhaney mein 2 انداز بیاں گرچہ بہت شوخ نہیں شاید کہ اتر جاۓ ترے دل میں بات andaz e byan agarchey bohat sokh nhi shaid k utar jaye dil mein tere baat 3 وجود زن سے ہے تصویر کاٸنات میں رنگ اسی کے ساز سے ہے زندگی کا سوز دروں wajud e zan sey hai tasweer e kainat mey rang issi k saaz sey hai zindagi ka soz o drun 4 نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشت ویراں سے ذرا نم ہو تو بڑی زرخیز ہے یہ مٹی ساقی nahi hai naumeed Iqbal apni kast e veeran ...

وطن کے نام-اردو شاعری- POEM FOR PAKISTAN DAY-WATAN KEY NAAM

This thoughtful poem is for my country Pakistan that is on its way to progress after getting rid of its enemies plans.  وطن کے نام-اردو شاعری- تقسیم ہو جاتی در تقسیم، حیراں بن جاتا پریشاں جو قوم دے دے راستہ ہر بے حمیت کو     جو بن گۓ جوان خود کش بم ، بچانے ملت کو   نکل پڑے کئ معصوم جنازے، شہرِ رحلت کو   ڈنڈا تھا یا چھینا ہوا اسلحہ بمقابلہ کروز میزائل سامنا تھا وحشی دشمن کا، خون بے قیمت کو   پمفلٹ گراۓ، مرضی کے فتوے پھیلاۓ پیسہ، دھمکی، دھونس سب بکا قیمت کو بھٹک گۓ، بہہ گۓ یا رسوا ہوۓ بہت گراں گزرے کئ سال طبیعت کو سیکھ لیا جو سکھا دیا، پڑھ لیا جو پڑھا دیا کتاب، سوچ، سوال، فکر لپٹے رہے جہالت کو چلے تھے جہاں سے، رکے ہیں کہاں پہ یہ پوچھے کوئ میرے ایٹم بم کی وراثت کو وطن کی محبت جو ہوئ بھاری تم پر سمیٹ لیں اس نے بھی بانہیں خلوت کو منانا ہے مٹی کو، نظریہ ڈھونڈھ کر لانا   ہے     واحد سے وفا چاہیے سکون بھری جلوت کو    اند ھیرا واپس نہ آۓ، خون نا حق نہ بہاۓ بند کر دیے سارے    دشمن رستے گھر کی خدمت کو ...

کرونا ہے کہ وبال جان-poetry-corona hai K wabal e jan

Image
Corona Virus pandemic has ruined the pleasure of normal life.  Poetry کرونا ہے کہ وبال جان نہ اُگلے، نہ نِگلے یہ طوفان پہن پہن کر ماسک، دھو دھو کر ہاتھ، خطا ہوۓ اوسان نہ نگلے، نہ اگلے یہ طوفان لاک ڈاؤن ہے ،چھٹی کے دن دیکھا ہر پارک، ہر بازار،ہردکان خواب ہوۓ اسکول کے دن ،آن لائن پڑھ کر  دینے پڑےفزیکل امتحان نہ اُگلے، نہ نِگلے یہ طوفان کاروبارہو گۓ ٹھپ،  سفیدپوش بن گۓ سب یہ وقت کڑا پڑا روز وشب  نہ گورا دیکھا نہ کا لا نہ امریکی نہ افریقی یہ وبا لے گئ کئ جان نہ اُگلے، نہ نِگلے یہ طوفان دنیا تھی بہت تیز،  تھامے وقت کی لگام بھاگتی دوڑتی فضائیں  ،جاگتی  راتیں ہویئں سنسان نہ اُگلے، نہ نِگلے یہ طوفان مانگی تھیں کئ باردعا ئیں  کہ  لمبی چھٹی مل جاۓ ایسا ہوگا انجام، سوچ کرہوں حیران مخلوق نہیں اوپر قدرت کے ہر سانس کے بعد اگلی سانس ہے انعام گزر جاۓ گا یہ وقت بھی، زندگی رکی ہے نہ رکے گی لڑنا ہے،مرنا ہے حقیقت میں انسان نہ اُگلے، نہ نِگلے یہ طوفان کرونا ہے کہ وبال جان  

Islamabad pictures: Most beautiful capital of world has unparalleled flory-Saw beauty, saw magic, saw glory-a poem

Image
A few words for the world's most beautiful capital city Islamabad, Pakistan Rawal Lake Islamabad Dutch &Dutchess of Cambridge steal lights in Islamabad, Pakistan Saw beauty saw magic, saw the glory Who saw the city of Islamabad unparalleled flory Heart-wrenching, full of green I saw Margalla hills and the enchanting Monal lean A track amid mesmerizing magalla hills A road of Monal restaurant, Islamabad The outskirts of the Faisal Mosque blooming like a lotus I saw the dancing hyacinth and  cedar amid cultus A road to Faisal Mosque Quaid-e-Azam University at the foot of the spring  Saw dreams, saw passion, going fling Quaid e Azam University Islamabad Red and orange wandering leaves, blue area dipped in autumn Saw the sun sets scarlet on a chilly December decorum Blue area Islamabad Where the white flowers tell the good news of spring Saw the summer ornamented with ...

جس نے اسلام آباد شہر بے مثال دیکھا- نظم-fusion stories

Image
اک نظم دنیا کے خوبصورت دارلحکومت میرے شہر اسلام آباد کے نام حسن دیکھا، سحر دیکھا، جلال دیکھا جس نے اسلام آباد شہر بے مثال دیکھا دل کو کھینچتے، سبزے سے اٹے ہوۓ مارگلہ کے پہاڑ اورمسحور مونال دیکھا کنول کی مانند کھلتی ہوئی فیصل مسجد کی اوٹ دیودار اور سنبل کو خوشی سے محال دیکھا چشمے کے دامن میں بسی قائد اعظم یونیورسٹی مستقبل کے خوابوں کو محنت میں نہال دیکھا سرخ و نارنجی بہکتے پتے، خزاں میں ڈوبا بلیو ایریا  دسمبر کی ٹٹھرتی، سمٹی شاموں میں سورج کو لال دیکھا  سفید پھول خوبانی کے سناتے ہیں بہار کی نوید تو چمکیلی املتاس سے سجتی گرمیوں کو ہر سال دیکھا پرسکون باسیوں جیسی ٹھہری ٹھہری راول جھیل شکرپڑیاں مانومنٹ سے لیکر مری تک سکوت کا جال دیکھا گۓ ہم آبپارہ، کراچی کمپنی، مال اور جناح سپر مزا آیا شاپنگ کا جب اتوار بازار کا سٹال دیکھا سپریم کورٹ، ایوان صدر و وزیر اعظم کےسخت پہرے  شر اقتدار میں زوال کو عروج آور عروج کو زوال دیکھا ہر موسم خوب ہے، ہر منظر خواب ہے یہاں آنکھوں میں بس جاۓ جو ، ...

-Karachi rain poetryکراچی کی بارش اورہیں گم کیچڑ میں راستے، ہم اور تم-Heavy rain in Karachi and effects in funny poetry

Image
Don't take on heart karachi we love you ... and this poem is for the sawan Karachi rain and Karachi flood that drowned the city. No electricity, no internet, no food, only flooded roads کراچی کی بارش اورہیں گم کیچڑ میں راستے، ہم اور تم پکوڑوں کی پلیٹ ، چائے کا مگ ہاتھ میں پنکھا ، ہم اور تم بادلوں کی گڑگڑ اہٹ ، بجلی کی سنسناہٹ بیچ جنریٹر کا شور ، ہم اور تم بہہ نکلا جو چھپایا تھا گلی کے گٹر میں وہ ہمارا اپنا کوڑا  سڑک میں ، ہم اور تم سیلن کی بو ، حبس کا عالم لرزتی ، ٹپکتی چھت ، ہم اور تم چلانا نہیں تھا تولیا تھا کیوں منہ چڑاتے فریج، اے سی  ہم اور تم قدرت  نے  پلا دیا ، ہریالی کو پانی انساں کا جہاں  ہے بند ، ہم اور تم ٹوٹی سڑکیں ، کیچڑ کا زور برسا ہے کرپشن کا ساون پھر بھی… خوش ہوں ، دیکھا میرے شہر نے امن  بارش میں بھیگے ہنستے چہرے ، ہم اور تم مٹ جائیں گے نشان دہشت کے  نہ جلنے دیں گے اب زندہ کسی کو، ہم اور تم پہلی بارش ساون کی مانگتی عہد روشنی کے شہر سے دھلا ...