کالا بھوت۔ اردوکہانی۔ سیریز۔ ٹوپی والا لڑکا
سلسلہ : ٹوپی والا لڑکا کہانی ١ کالا بھوت 'چپ کر جاٸیں،“آہ” ۔ چہارم جماعت! آخری دفعہ کہہ رہی ہوں“، مس فوزیہ باقاعدہ چیخ رہی تھیں لیکن بچے خوب شور مچا رہے تھے۔ کوئ ہاتھ سے پٹاخے بجا رہا تھا تو کوئ گانے گا رہا تھا تھوڑی دیر بعد کوئ بچہ شکایت لے کر آ جاتا کہ مِس مجھے اس نے مارا ہے ۔مِس مجھے اس نے گالی دی ہے۔ چوتھی جماعت کا ماحول کچھ دن سے بہت خراب ہو گیا تھا۔ مس فوزیہ کافی پریشان تھیں۔ اب انھوں نے اپنی جماعت کا ماحول ٹھیک کرنے کا سوچ لیا تھا۔ مس فوزیہ اب ڈسٹر میز پر بجا رہی تھیں کہ اچانک علی نے دیکھا کہ اس کے ساتھ ایک کالا بھوت بیٹھا ہوا تھا۔ابھی کچھ دیر پہلے ہی تو وہاں منیب بیٹھاہوا تھا۔ کچھ دیر تو علی کی گھگی بندھ گٸ۔ اس کویقین نہیں آیا پھر اس نے زورسے چیخ ماری 'کالا بھوت۔۔۔۔،' یہ سننا تھا کہ سب بچوں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ڈر کے مارے سب کے رونگٹے کھڑے ہو گۓ۔ وہاں تو سر سے پاٶں تک ایک کالا انسان یا کوئ بھوت بیٹھا تھا جس کے منہ سے کالی جھاگ نکل رہی تھی۔ وہ کالی جھاگ اس کے سارے منہ اور جسم پر پھیل رہی تھی۔ بچے چیخیں مارنے لگے کـھ بچوں نے تو ڈر کر آنکھیں بند ...