Posts

مُلک سے محبت ہے یا نہیں بولو اردو نظم۔ صاٸمہ ندیم۔!

Image
 ملک سے محبت ہے یا نہیں بولو اردو نظم ۔صاٸمہ ندیم ملک سے محبت ہے یا نہیں بولو دشمن کو دشمن سمجھتے ہو یا نہیں بولو یہ بیچ کی بلی نہیں بن سکتے اس کے گریبان تک جا سکتے ہو یا نہیں بولو کیا ہے تمہارا نظریہ محبت پیہم یا ڈگمگاتا جاتا ہے بازی گروں کے ہاتھ بولو سستا ہوتا ہےخون جہاں مٹی سستی اس مٹی کو سونا سمجھتے ہو یا نہیں بولو نہیں چلیں گی اب دو کشتیاں ڈوبنے سے پہلے فیصلہ کرسکتے ہو یا نہیں بولو سوچتے بھی ہو یا صرف گزارتے ہو روز وشب کا حساب کرسکتے ہو یا نہیں بولو نابود ہو جاۓ گا ہر خون آلود ہاتھ  صفوں سے اسے نکال سکتے ہو  یانہیں بولو وطن سے محبت ہے یا نہیں بولو دشمن کو دشمن سمجھتے ہو یا  نہیں بولو  نو بالغ گمراہ کیوں ہوۓ اس وطن کے ذہن ساز کو کٹہرے میں لا سکتے ہو یا نہیں بولو مل کر برباد کیا سب نے اس کو واپسی میں اپنا حصہ ڈال سکتے ہو یا نہیں بولو میں سے ہم کا سفر کرنا ہے اب ہم سے میں کو نکال سکتے ہو یا نہیں بولو  کیا اک اور دھماکے کا ہے انتظار یا  دھماکہ ساز کو کارساز بنا سکتے ہو یا نہیں بولو یاد بھی ہیں وہ آزادی کی داستانیں کچھ آزادی کو غلامی سے بچا سکتے ہو یا ...

مغل گرہن۔ خلاصہ۔ اردو ناول۔ مصنفہ صاٸمہ ندیم

Image
  مصنفہ صائمہ ندیم کا ناول  ّ مغل گرہن' تاریخ سے محبت کرنے والوں کے لیے ایک تحفہ  ہے، جس کے آن لاٸن اشاعت کے بعد پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش اور عالمی سطح پر 5000 سے زائد قارئین ہیں۔  یہ 1857 کے آزادی کے جنگجو سپاہیوں عمر خان، رنبیر نگھ، اشوک ناتھ، انیل اور نیاز دین کی جدوجہد اور امیدوں کی ایک داستان ہے جس نے لال قلعہ میں موجود دہلی کے کمزور مغلوں کو اپنی امیدوں کا مرکز سمجھ کر پکارا اور دم توڑتی مغل سلطنت ہمیشہ کے لیے منہدم ہو گئی۔ بوڑھے بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو اس جنگ کے انجام کا اشارہ تھا لیکن اس کے مغل شہزادے اپنی قسمت آزمانا چاہتے تھے۔ ان شہزادوں کا پل پل موت کی طرف سفر پڑھیے ناول مغل گرہن میں۔ جس وقت ہندوستانی لوگ  برطانوی آقاؤں سے تنگ تھے وہیں انجلین۔ ایک برطانوی جنرل کی مغرور بیٹی  جنگجو سپاہی عمر خان کے لیے اپنی محبت کے آگے بندھ نہ باندھ سکی لیکن عمر خان شہزادہ جوان بخت کے انجلین کے لۓ ارادوں سے بےخبر اپنی  منزل کی طرف رواں رہا۔  مرزا غالب ، سید احمد خان اور مغل شہزادی حمیدہ بانو  لال قلعے کی دیواروں کے پیچھے کیا کرتے رہے؟ لوگوں نے م...

جنگل میں اک دریا بہتا ہے۔ اردو نظم

Image
 گھنے جنگل میں اک دریا بہتا ہے اردو نظم۔ بچوں کے لۓ صاٸمہ ندیم گھنے جنگل میں اک دریا بہتا ہے🎋 اس دریا کے پار اک ریچھ رہتا ہے🐻 روز صبح کھا کر جیم پراٹھا🥛 ریچھ اپنے سکول کو جاتا ہے🎒 لا لا ۔۔۔۔۔وووو۔۔۔۔اواواواو گھنے جنگل میں اک دریا بہتا ہے🌊 اس دریا کے پار اک شیر رہتا ہے🦁 روز صبح کھا کر سالن پراٹھا🥛 شیر اپنے سکول کو جاتا ہے🏫 لا لا لا۔۔۔۔وووو۔۔۔۔اواواواو اوواواو۔۔۔۔۔لالالا۔۔۔۔وووو گھنے جنگل میں اک دریا بہتا ہے🦈 اس دریا کے پار اک بندر رہتا ہے🐒 روز صبح کھا کر  چاۓ پراٹھا🍼 بندراپنے سکول جاتا ہے📖 لا لا ۔۔۔۔۔وووو۔۔۔۔اواواواو اوواواو۔۔۔۔۔لالالا۔۔۔۔وووو گھنے جنگل میں اک دریا بہتا ہے🌴 اس دریا کے پار اک ہاتھی رہتا ہے🐘 روز صبح کھا کر اچار پراٹھا🍺 ہاتھی اپنے سکول کو جاتا ہے📚 لا لا ۔۔۔۔۔وووو۔۔۔۔اواواواو اوواواو۔۔۔۔۔لالالا۔۔۔۔وووو گھنے جنگل میں اک دریا بہتا ہے🌳 اس دریا کے پار اک  شہزادی رہتی ہے👸🤴 روز صبح کھا کر انڈہ پراٹھا🍸🍹🍻 شہزادی اپنے سکول کو جاتی ہے🏫📚 لا لا ۔۔۔۔۔وووو۔۔۔۔اواواواو

گھنے جنگل میں اک دریا بہتا ہے

Image
 گھنے جنگل میں اک دریا بہتا ہے اردو نظم۔ بچوں کے لۓ صاٸمہ ندیم گھنے جنگل میں اک دریا بہتا ہے🎋 اس دریا کے پار اک ریچھ رہتا ہے🐻 روز صبح پی کر دودھ شہد🥛 ریچھ اپنے سکول کو جاتا ہے🎒 لا لا ۔۔۔۔۔وووو۔۔۔۔اواواواو گھنے جنگل میں اک دریا بہتا ہے🌊 اس دریا کے پار اک شیر رہتا ہے🦁 روز صبح پی کر دودھ بادام🥛 شیر اپنے سکول کو جاتا ہے🏫 لا لا لا۔۔۔۔وووو۔۔۔۔اواواواو اوواواو۔۔۔۔۔لالالا۔۔۔۔وووو گھنے جنگل میں اک دریا بہتا ہے🦈 اس دریا کے پار اک بندر رہتا ہے🐒 روز صبح پی کر دودھ کیلا🍼 بندراپنے سکول جاتا ہے📖 لا لا ۔۔۔۔۔وووو۔۔۔۔اواواواو اوواواو۔۔۔۔۔لالالا۔۔۔۔وووو گھنے جنگل میں اک دریا بہتا ہے🌴 اس دریا کے پار اک ہاتھی رہتا ہے🐘 روز صبح پی کر دودھ شربت🍺 ہاتھی اپنے سکول کو جاتا ہے📚 لا لا ۔۔۔۔۔وووو۔۔۔۔اواواواو اوواواو۔۔۔۔۔لالالا۔۔۔۔وووو گھنے جنگل میں اک دریا بہتا ہے🌳 اس دریا کے پار اک شہزادہ رہتا ہے👸🤴 روز صبح پی کر دودھ دہی🍸🍹🍻 شہزادہ اپنے سکول کو جاتا ہے🏫📚 لا لا ۔۔۔۔۔وووو۔۔۔۔اواواواو

ہفتے کے سات دن بہن بھاٸ تھے۔ اردو کہانی بچوں کے لۓ

Image
 جب ہفتے کے دن بہن بھاٸ ہوتے تھے۔ اردو کہانی بچوں کے لۓ مصنفہ:صاٸمہ ندیم بہت سالوں پہلے سات بہن بھاٸ  پیر، منگل، بدھ، جمعرات، جمعہ، ہفتہ، اور اتوار ایک گاٶں میں رہتے تھے۔ ان کی زندگی کے سارے دن بس ایک جیسے ہی تھے۔ جب ان کا دل چاہتا وہ کام کرتے اور جب دل چاہتا وہ آرام کرتے۔ ہاں بس کبھی راتیں لمبی ہو جاتیں اور دن چھوٹے اور کبھی دن لمبے ہو جاتے اور راتیں چھوٹی ہو جاتیں۔ وہ اس زندگی سے بور ہو گۓ تو سب سے بڑے بھاٸ پیر نے دنیا کی سیر کا پروگرام بنایا۔ بس پھر بھاٸ منگل، بھاٸ جمعہ، بھاٸ ہفتہ ، بھاٸ اتوار ، بہن بدھ اور بہن جمعرات بھی ساتھ جانے کی ضد کرنے لگے۔ سب نے اپنا سامان اٹھایا اور گھر سے نکل پڑے۔ وہ جنگلوں میں، سمندروں میں اور پہاڑوں پر چکر لگاتے رہے لیکن اب بھی ان کے دن ایک جیسے تھے۔ روز وہی کام اور جب چاہے چھٹی۔ وہ بے چین تھے کہ ایک دن تیز آندھی اور طوفان آیا اور وہ سات بہن بھاٸ اپنی جان بچانے کے لۓ پہاڑ کے اُوپر ایک غار میں چھپ گۓ۔ اس غار میں گھپ اندھیرا اور پر اسرار سی خاموشی تھی۔ بھاٸ منگل نے اندھیرے کو کم کرنے کے لۓ آگ جلا دی۔ آگ کا جلنا تھا کہ ایسا لگا جیسے غار میں زلزلہ آ...

Sample Application for an Extension Of MPhil Thesis

Image
 Asking for an  extension for submission of Mphil thesis is common as many enters practical life after grabbing Masters degree. It becomes tough to mantain balance in work and studies. A well written application pointing towards solid reasons that caused the delay in work can satisfy the university authorities and you can be given required extension. Here is a  Sample Application for an extension of Mphil these.  You can get an extension in MPhil these by writing this sample MPhil extension application.    To,   The Chairman,  Superior  University ، Lahore     Subject: Extension for M - phil thesis  Respected Sir, I am writing this application to request an extension in the deadline for submission of my M- Phil thesis. I have been registered student of your university under supervision of Dr. Imran Moeen. I still have some survey and writing work pending on my thesis of M Phil.  Kindly consider the following reasons w...

نماز۔ اردو نظم بچوں کے لۓ۔

Image
 نماز۔  اردو نظم ۔ بچوں کے لۓ آنکھوں کی ہے ٹھنڈک دل کا ہے سکون  زبان کی ہے مٹھاس مسلمان کے لۓ خاص غم کو بدلتی ہے خوشی میں اندھیروں کو بدلتی ہے روشنی میں کرو گے تم محبت دین سے خدا بھی محبت کرے گا یقین سے بچے پڑھتے ہیں جو نماز ہو جاتے ہیں وہ بہت ممتاز شاعر: صاٸم ذوالفقار جماعت: ششم بی