Posts

لالچ بُری بلا ہے۔ اردو کہانی۔ صاٸمہ ندیم

Image
  لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی۔ صاٸمہ ندیم ایک دفعہ دو دوست بازل اور شہروز کمپیو ٹر ہیکنگ اورنۓ سافٹ وٸیرز بنانے کے بہت ماہر تھے۔ انھو  نے ملکر ایک سافٹ وٸیر تیار کیا جس کی مدد سے حکومت کو ملکی کاموں میں بہت مدد مل سکتی تھی۔ وہ اپنے سافٹ وٸیر کو لے کر مختلف اداروں کے پاس گۓ ۔ ہر ادارہ انھیں منہ مانگی قیمت دینے پر تیار تھا۔ آخر کافی سوچ بچاراور چھان بین کے بعد انھوں نے ایک ادارے کو چن لیا۔ وہ  سافٹ وٸیر بیچنے ہی والے تھے کہ ان میں سے ایک دوست کو ایک فون آیا جس میں اسے سافٹ وٸیر کے بدلے ایک بہت بڑی رقم کی پیش کش کی گٸ۔اس دوست نے اس پر سوچا تو لالچ اس پر غالب آگٸ۔  ۔”آخر زیادہ کام میں نے ہی کیا تھا۔ شہروز تو خواہ مخواہ حصے دار بن رہا ہے“۔ بازل نے سوچا اور فیصلہ کر لیا۔ اس نے اپنے دوست سے مشورہ کۓ بغیر  سافٹ وٸیر کو ایک دوسری کمپنی کو بیچ دیا۔ ساتھ ہی ایک بہت بڑی رقم کے اس اکاٶنٹ میں آگٸ۔ ا  شہروز تو بازل  کے دھوکے پر بہت رنجیدہ ہوا لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔اس نے بازل دوست کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیا۔ چند دن ہی گزرے تھےکہ پولیس نے بازل کو گرفتار کرلیا کیو...

لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی ۔ صاٸمہ ندیم ے

Image
لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی صاٸمہ ندیم   یہ کیا مطلب ہے اس گیم کے ساتھ سردیوں کی چھٹیاں تھی اور ماریہ کے گھر اس کے کزن رہنے کے لیے ائے ہوئے تھے۔اس شام دادا ابو نے مالمالٹوں کی بوری منگوائیتاکہ ان کے سارے پوتے پوتیاں خوشی سے مزے کریں۔ لیکن ماریہ بالکل بھی خوش نہیں تھی۔سب بچوں کو دو دو مالٹے ملے جو سب نے خوشی سے کھائے۔ ماریہ نے ضد کرکے تین مالٹے لۓ۔ مالٹے کافی بڑے اور رزدار تھے بچوں کا پیٹ بھر گیا لیکن ماریہ نے نہ صرف اپنے بھاٸ کا مالٹا بھی کھا لیا بلکہ دو مالٹے اور بھی چھپا لیے۔ رات کو جب سب سو گئے تو ماریا اٹھی اور اس نے اپنے چھپائے ہوئے دونوں مالٹے کھا لیے۔  وہ سونے جا رہی تھی کہ اسے اچانک خیال ایا کہ کل تو اس کے کزن باقی مالٹے کھاٸیں گے اور وہ ایسا نہیں چاہتی۔ اس کے پیٹ میں جگہ نہیں تھی لیکن اس نے صرف اس لۓ بوری سے اور مالٹے چرا کر کھاۓ کہ کوٸ اور نہ کھا لے۔ اسے بہت مشکل سے نیند آٸ لیکن جب جب صبح اد کی آنکھ کھلی تو ا سے اٹھا نہیں جا رہاتھا کیونہ اسے تیز بخار تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے نمونیہ ہو گیا ہے۔ وہ کٸ دن تک بیمار رہی۔ باقی پوری سردیاں اسے کھانے میں صرف سوپ اور نر...

دودھ کی پتیلی فرج کی ملکہ

Image
    فریج کی ملکہ دودھ کی پتیلی۔اردو کہانی بچوں کےلۓ مصنفہ :صاٸمہ ندیم ۔”اس فرج میں ہر چیز میری مرضی کے مطابق رکھی جاتی ہے۔ میں ہوں مالکن کی چہیتی ٹھنڈی چمکدار دودھ کی پتیلی ۔اس فرج کی ملکہ! اس فرج کے سب سے اوپر والے خانے میں ہمیشہ میرا قبضہ ہوتا ہے اور میرے ساتھ صرف کبھی کبھار دہی کا ایک چھوٹا سا ڈونگا ہی رکھا جا سکتا ہے یا کبھی کبھار اجازت ہو تو میں اپنے ساتھ کوئی مٹھائی کا ڈبہ رکھنے کی اجازت دیتی ہوں“ ۔  نہیں نہیں بالکل نہیں یہ بڑا سا تربوز بالکل میرے ساتھ نہیں آسکتا فرج کی پتیلی نے اپنے اپ کو اور پھیلایا اور جب مالکن نے فرج کھولا اور اس کے  .ہاتھ میں ایک بڑا سا تربوز تھا مالکن نے کچھ دیر کوشش کی۔ اس کے نیچے والے خانے میں شہزادہ آٹے کا ڈبہ اور سالن کا ایک ڈونگا تھا ۔تربوز کی باری اس کے نیچے والے خانے میں آئی جہاں پہلے ہی پھلوں کے شاپر تھے۔ مالکن نے شاپروں کو اور دھکیلا اور تربوز کی جگہ بنا دی۔  اور اس کے نیچے ٹوکری میں بہت ساری سبزیاں اوپر نیچے پڑی ہوئی تھیں ۔  تربوز وہاں پر بہت تنگ ہو رہا تھا ۔تربوز نے ارد گرد کا جائزہ لیا تو اسے احساس ہوا کہ فرج میں نی...

چوہوں کی نانی چڑیل۔ اردو کہانی

Image
 چوہوں کی نانی چڑیل۔ اردو کہانی صاٸمہ ندیم وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں # تیز بارش،طوفان، طویل لوڈ شیڈنگ اور گھپ اندھیرے نے ہر طرف عجیب ہیبت ناک ماحول بنا دیا تھا۔ رات کے دس بجے تھے۔ بجلی کی کڑک اور بادلوں کی گرج سے ڈرتی آمنہ کہیں سے ایک موم بتی ڈھونڈکر لاٸ اور دونوں بہنوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کو ڈراٶنی کہانیاں سناٸیں گی۔ زیادہ ڈرنے والا ہار جاۓ گا۔ پہلی باری آمنہ نے لی۔ ۔”بہت عرصے پہلے کی بات ہے ایک جگہ ایک گنجی چڑیل رہتی تھی۔وہ چاہتی تھی کہ سب لوگ گنجے ہو جائیں۔ ایک دن اس نے بازار میں ایک شیمپو بیچا جو لوگ لگاتے تھے تو وہ گنجے ہو جاتے تھے۔وہ بہت خوش ہوئی کہ اب سب لوگ گنجے ہو جائیں گے لیکن کچھ دیر میں اس کی آنکھ کھل گئی کیونکہ یہ تو خواب تھا۔چڑیل کو بہت غصہ آیا اس نے سوچا خواب سچ ہوگا اس لیے میں ایک ایسا شیمپو بناؤں گی اس نے ایک شیمپو بنایا اور بازار میں بیچا لیکن لوگوں کے بال تو لمبے آنے لگ گئے۔چڑیل نے خود وہ شیمپو  خودلگایا تو اس کی گنج اور بھی چمکنے لگ گئی۔اب لوگ اسے ”بلب والی چڑیل“ کہتے ہیں۔ وانیہ کو بہت غصہ آ رہا تھا۔ اب اس کی باری تھی۔ ۔”بہت سال پہلے ایک جنگل میں ا...

Mark e Haq-Operation Bunyan um Marsoos Posters Pakistan successful military operation victory posters

Image
 Operation Bunyan um Marsoos Posters. Pakistan successful military operation Bunyan um Marsoos against India  victory posters are here.  Operation Bunyan um Marsoos means "iron wall" or "sisa Pillai deewar"posters is tribute to Pakistani armed forces who show bravery and fought and won a big victory against India after India attack on Pakistan sovereignity on the night of 6 May, 2025.  The heroes of Pakistan Air Force took the Rafael Indian planes as eagles and down at least six planes all of sudden. It was just a start. The war continued with the Criss cross of missiles and bronze for 4 days. And it ends to see fire at the when the last attack was done from Pakistan side on the morning of 10th May,named operation bunyan um Marsoos. The enemy was not able to answer even and agree to ceasefire by evening. To celebrate this victory all the schools and colleges in Pakistan are celebrating the victory students are making the posters for showing the love of their country...

لاہور کی نہر کا جنوں والا درخت۔ اردو کہانی بچوں کے لۓ

Image
لاہور کی نہر کا جنوں والا درخت۔ اردو کہانی بچوں کے لۓ ۔”ارے تم لوگ پھر وہی کہانی سننے کی ضد کرنے لگے جب مسلمان جنوں کا خاندان میرے اوپر آکر آباد ہوگیا تھا حالانکہ میرے پاس گزرے وقت کی اور بھی بہت سی کہانیاں ہیں“۔ لاہور کی نہر کنارے کھڑےساڑھے تین سو سالہ پرانے برگد کے بوڑھے درخت نے سوچتے ہوۓ کہا۔  ۔”ہاں اور جب اس خاندان کے ایک جن بچے نے ایک انگریز کو پتھر مار دیا تھا وہی والی کہانی۔۔۔“۔ آج چاند کی چودہویں روشن رات تھی اور چڑیا،مینا، کبوتر اور طوطوں کے بچے برگد درخت چاچا سے کہانیاں سننے آۓ تھے۔ برگد درخت چاچا انھیں بتاتے کہ  ۔”جب میں جوان تھا تو مغل شہزادیاں یہاں پانی سیر کرنے آیا کرتی تھی۔ اور دیر تک میری چھاٶں میں بیٹھی نہر کے پانی میں اپنے خوبصورت پاٶں مارتی رہتی تھیں۔ میرے آس پاس چھپن چھپاٸ کھیلا کرتی تھیں۔ اور ایک دفعہ تو ایک شہزادی نہر کے پانی میں گر پڑی۔بس میری پانی میں پھیلی ایک جڑ نے اسے بچایا لیکن  پھر ایک شہزادے نے نہر میں ڈبکی لگاٸ ا ور میری  تعریف اورکوشش اپنے نام کر لی۔ مجھے بہت ہی افسوس ہوا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ شہزادی مجھے پسند کرتی تھی اور۔۔۔“۔ ۔” ہمیں پ...

وقت کا خوفناک پرندہ۔ اردو کہانی۔ وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں

Image
وقت کا خوفناک پرندہ۔  اردو کہانی۔  وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں  آمنہ اوروانیہ داداابو کے گھر اسلام اباد میں چھوٹی عید منا کرواپس آ رہی تھیں اور دونوں بہنیں کافی اداس تھیں۔ دونوں بہنیں سوتے جاگتےباہر کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اپریل کا مہینہ تھا اور باہر کافی خوشگوار ہوا چل رہی تھی۔تیز چلتی ہوا اور گاڑیوں کی رفتار کی وجہ سے سڑکوں کے کنارے پتے اور کاغذ اڑنے لگتے تھے ابھی وہ جہلم کے پاس پہنچے تھے دونوں طرف پتھریلا پہاڑی راستہ تھا آبادی نہ ہونے کے برابر تھی کہ اچانک  ایک لال رنگ کا کاغذ اڑتا ہوا آیا اور ان کی کھڑکی سے چپک گیا۔  کچھ اورکاغذ بھی ان کی کھڑکی پر چپک گۓ۔ ان پر عجیب بھوت جیسی شکلیں اور نقشے بنے ہوۓ تھے۔ سڑک پر گاڑیوں کی جگہ گھوڑے چل رہے تھے۔ لوگ تلواریں لے کر جنگ کرنے جارہے تھے۔ گھوڑے ہنہنا رہے تھے۔ لوگ زخمی تھے۔کچھ لوگ درد سے کراہ رہے تھے جیسے وہ مرتے اور بھوت بن جاتے۔  دونوں نے زودار چیخ ماری کہ بابا کو بریک لگانی پڑی۔  ۔”بابا ہماری کھڑکی پر بھو ت تھے۔ ہماری سڑک پر پرانے زمانے کی جنگ ہورہی تھی اور لوگ مر کربھوت بن رہے تھے“۔ دونوں بولیں۔  ۔”اور د...