Posts

بارش آٸ ٹپ ٹپ

Image
اردو نظم ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !حسن پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا؟ ۔۔۔میں۔۔میں۔۔میں ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !عریشہ پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا؟ ۔میں۔۔میں۔۔میں۔۔۔ ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !آپی پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا؟ ۔۔۔میں۔۔میں۔۔میں ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !بھیا پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا؟ ۔میں۔۔میں۔۔میں۔۔۔ ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !قوس قزح پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا ۔میں۔۔میں۔۔میں

جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ اردو کہانی بچوں کے لۓ

Image
 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔  Tit For Tat اردو کہانی بچوں کے لۓ صاٸمہ ندیم ایک دفعہ ایک جنگل میں بہت سے جانور مل جل کر رہتے تھے جب جنگل کے بندروں نےجنگل کے بادشاہ شیر سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگل کے اس حصے میں رہنے والی گلہریوں کو یہاں سے نکال دیں کیونکہ  گلہریوں کے درختوں پر چڑھنے اور اُترنے کی وجہ سے بندر اور ان کے بچوں کو مشکلات ہوتی ہیں اور دوسرا وہ گلہریاں ان کے کھانے کی چیزیں بھی اٹھا لیتی ہیں۔ ایسا جنگل میں پہلے  کبھی نہیں ہوا تھا ۔ سب جانور مل جل کر رہتے تھے۔ بندروں کا یہ مطالبہ سن کر گلہریاں بہت پریشان ہوئیں۔ بندروں کے شیر بادشاہ کے وزیر لومڑی کے ساتھ تعلقات اچھے تھے اس کے علاوہ وہ اپنی چاپلوسی میں بھی مشہور تھے۔گلہریاں جانتی تھیں کہ حق پر ہونے کے باوجود بھی فیصلہ ان کے خلاف آۓ گااور ایسا ہی ہوااور گلہریوں کو جنگل کے دوسرے حصے میں جانے کا کہا گیا۔اس فیصلے کو جنگل کے باقی جانوروں نے بھی پسند نہ کیا لیکن وہ بھی بندروں کی بدمعاشی سے خوفزدہ تھے۔آخر گلہریوں کو جنگل کے دوسرے حصے میں منتقل ہونا پڑاجو کہ درمیان کے حصے کی طرح سر سبز نہیں تھااور انسانی آبادی سے بھی بہت دور ...

جس کا کام اس کو ساجھے۔ اردو کہانی

Image
جس کا کام اسی کو ساجھے۔ اردو کہانی صائمہ ندیم  ایک آدمی کی گاڑی خراب ہو گئی۔اس نے گاڑی کا بونٹ کھول کر دیکھا تو اسے لگا کہ کچھ انجن کا کام ہے۔اس نے سوچا کہ اگر وہ مکینک کے پاس گیا تو وقت بھی ضائع ہو جائے گا اور کافی زیادہ پیسے بھی لگ جائیں گےکیوں نہ میں یوٹیوب سے ویڈیو دیکھوں اور گاڑی خود ٹھیک کرنے کی کوشش کروں۔آخر اس نے یوٹیوب سے ویڈیو دیکھنا شروع کیں اور کچھ ہی دیر بعد اسے احساس ہوا کہ اب تو اسے گاڑی ٹھیک کرنا آ گئی ہےوہ خواہ مخواہ ہی اتنے پیسے مکینک کے پاس جا کے ضائع کرتا رہا ہے۔بس چھٹی کے دن صبح ہی اس نے اپنی گاڑی کا بونٹ کھولا اور گاڑی کاکام شروع کر دیا۔ دیکھتےہی دیکھتے اس نے گاڑی کے کافی پرزے نکال کر باہر رکھ د یے۔اب اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی جب وہ ایک تار کو دوسری سے جوڑتا یا پرزہ واپس رکھتا تو اسے سمجھ نہیں آتی۔ کچھ ہی دیر میں وہ تھکنے لگا لیکن اس نے پھر وڈیوز چلاٸیں اور اپنے حساب سے گاڑی کو ٹھیک کر دیا۔ اب باری تھی گاڑی سٹارٹ کرنے کی تو جیسے ہی  اس نے گاڑی سٹارٹ کی تو انجن سے دھواں نکلنے لگا۔ گاڑی بھی سٹارٹ ہو کر بند ہوگٸ۔ وہ بہت پریشان ہوا ۔ تبھی اس کا بھاٸ جو کافی ...

لالچ بُری بلا ہے۔ اردو کہانی۔ صاٸمہ ندیم

Image
  لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی۔ صاٸمہ ندیم ایک دفعہ دو دوست بازل اور شہروز کمپیو ٹر ہیکنگ اورنۓ سافٹ وٸیرز بنانے کے بہت ماہر تھے۔ انھو  نے ملکر ایک سافٹ وٸیر تیار کیا جس کی مدد سے حکومت کو ملکی کاموں میں بہت مدد مل سکتی تھی۔ وہ اپنے سافٹ وٸیر کو لے کر مختلف اداروں کے پاس گۓ ۔ ہر ادارہ انھیں منہ مانگی قیمت دینے پر تیار تھا۔ آخر کافی سوچ بچاراور چھان بین کے بعد انھوں نے ایک ادارے کو چن لیا۔ وہ  سافٹ وٸیر بیچنے ہی والے تھے کہ ان میں سے ایک دوست کو ایک فون آیا جس میں اسے سافٹ وٸیر کے بدلے ایک بہت بڑی رقم کی پیش کش کی گٸ۔اس دوست نے اس پر سوچا تو لالچ اس پر غالب آگٸ۔  ۔”آخر زیادہ کام میں نے ہی کیا تھا۔ شہروز تو خواہ مخواہ حصے دار بن رہا ہے“۔ بازل نے سوچا اور فیصلہ کر لیا۔ اس نے اپنے دوست سے مشورہ کۓ بغیر  سافٹ وٸیر کو ایک دوسری کمپنی کو بیچ دیا۔ ساتھ ہی ایک بہت بڑی رقم کے اس اکاٶنٹ میں آگٸ۔ ا  شہروز تو بازل  کے دھوکے پر بہت رنجیدہ ہوا لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔اس نے بازل دوست کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیا۔ چند دن ہی گزرے تھےکہ پولیس نے بازل کو گرفتار کرلیا کیو...

لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی ۔ صاٸمہ ندیم ے

Image
لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی صاٸمہ ندیم   یہ کیا مطلب ہے اس گیم کے ساتھ سردیوں کی چھٹیاں تھی اور ماریہ کے گھر اس کے کزن رہنے کے لیے ائے ہوئے تھے۔اس شام دادا ابو نے مالمالٹوں کی بوری منگوائیتاکہ ان کے سارے پوتے پوتیاں خوشی سے مزے کریں۔ لیکن ماریہ بالکل بھی خوش نہیں تھی۔سب بچوں کو دو دو مالٹے ملے جو سب نے خوشی سے کھائے۔ ماریہ نے ضد کرکے تین مالٹے لۓ۔ مالٹے کافی بڑے اور رزدار تھے بچوں کا پیٹ بھر گیا لیکن ماریہ نے نہ صرف اپنے بھاٸ کا مالٹا بھی کھا لیا بلکہ دو مالٹے اور بھی چھپا لیے۔ رات کو جب سب سو گئے تو ماریا اٹھی اور اس نے اپنے چھپائے ہوئے دونوں مالٹے کھا لیے۔  وہ سونے جا رہی تھی کہ اسے اچانک خیال ایا کہ کل تو اس کے کزن باقی مالٹے کھاٸیں گے اور وہ ایسا نہیں چاہتی۔ اس کے پیٹ میں جگہ نہیں تھی لیکن اس نے صرف اس لۓ بوری سے اور مالٹے چرا کر کھاۓ کہ کوٸ اور نہ کھا لے۔ اسے بہت مشکل سے نیند آٸ لیکن جب جب صبح اد کی آنکھ کھلی تو ا سے اٹھا نہیں جا رہاتھا کیونہ اسے تیز بخار تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے نمونیہ ہو گیا ہے۔ وہ کٸ دن تک بیمار رہی۔ باقی پوری سردیاں اسے کھانے میں صرف سوپ اور نر...

دودھ کی پتیلی فرج کی ملکہ

Image
    فریج کی ملکہ دودھ کی پتیلی۔اردو کہانی بچوں کےلۓ مصنفہ :صاٸمہ ندیم ۔”اس فرج میں ہر چیز میری مرضی کے مطابق رکھی جاتی ہے۔ میں ہوں مالکن کی چہیتی ٹھنڈی چمکدار دودھ کی پتیلی ۔اس فرج کی ملکہ! اس فرج کے سب سے اوپر والے خانے میں ہمیشہ میرا قبضہ ہوتا ہے اور میرے ساتھ صرف کبھی کبھار دہی کا ایک چھوٹا سا ڈونگا ہی رکھا جا سکتا ہے یا کبھی کبھار اجازت ہو تو میں اپنے ساتھ کوئی مٹھائی کا ڈبہ رکھنے کی اجازت دیتی ہوں“ ۔  نہیں نہیں بالکل نہیں یہ بڑا سا تربوز بالکل میرے ساتھ نہیں آسکتا فرج کی پتیلی نے اپنے اپ کو اور پھیلایا اور جب مالکن نے فرج کھولا اور اس کے  .ہاتھ میں ایک بڑا سا تربوز تھا مالکن نے کچھ دیر کوشش کی۔ اس کے نیچے والے خانے میں شہزادہ آٹے کا ڈبہ اور سالن کا ایک ڈونگا تھا ۔تربوز کی باری اس کے نیچے والے خانے میں آئی جہاں پہلے ہی پھلوں کے شاپر تھے۔ مالکن نے شاپروں کو اور دھکیلا اور تربوز کی جگہ بنا دی۔  اور اس کے نیچے ٹوکری میں بہت ساری سبزیاں اوپر نیچے پڑی ہوئی تھیں ۔  تربوز وہاں پر بہت تنگ ہو رہا تھا ۔تربوز نے ارد گرد کا جائزہ لیا تو اسے احساس ہوا کہ فرج میں نی...

چوہوں کی نانی چڑیل۔ اردو کہانی

Image
 چوہوں کی نانی چڑیل۔ اردو کہانی صاٸمہ ندیم وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں # تیز بارش،طوفان، طویل لوڈ شیڈنگ اور گھپ اندھیرے نے ہر طرف عجیب ہیبت ناک ماحول بنا دیا تھا۔ رات کے دس بجے تھے۔ بجلی کی کڑک اور بادلوں کی گرج سے ڈرتی آمنہ کہیں سے ایک موم بتی ڈھونڈکر لاٸ اور دونوں بہنوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کو ڈراٶنی کہانیاں سناٸیں گی۔ زیادہ ڈرنے والا ہار جاۓ گا۔ پہلی باری آمنہ نے لی۔ ۔”بہت عرصے پہلے کی بات ہے ایک جگہ ایک گنجی چڑیل رہتی تھی۔وہ چاہتی تھی کہ سب لوگ گنجے ہو جائیں۔ ایک دن اس نے بازار میں ایک شیمپو بیچا جو لوگ لگاتے تھے تو وہ گنجے ہو جاتے تھے۔وہ بہت خوش ہوئی کہ اب سب لوگ گنجے ہو جائیں گے لیکن کچھ دیر میں اس کی آنکھ کھل گئی کیونکہ یہ تو خواب تھا۔چڑیل کو بہت غصہ آیا اس نے سوچا خواب سچ ہوگا اس لیے میں ایک ایسا شیمپو بناؤں گی اس نے ایک شیمپو بنایا اور بازار میں بیچا لیکن لوگوں کے بال تو لمبے آنے لگ گئے۔چڑیل نے خود وہ شیمپو  خودلگایا تو اس کی گنج اور بھی چمکنے لگ گئی۔اب لوگ اسے ”بلب والی چڑیل“ کہتے ہیں۔ وانیہ کو بہت غصہ آ رہا تھا۔ اب اس کی باری تھی۔ ۔”بہت سال پہلے ایک جنگل میں ا...