Posts

چوہوں کی نانی چڑیل۔ اردو کہانی

Image
 چوہوں کی نانی چڑیل۔ اردو کہانی صاٸمہ ندیم وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں # تیز بارش،طوفان، طویل لوڈ شیڈنگ اور گھپ اندھیرے نے ہر طرف عجیب ہیبت ناک ماحول بنا دیا تھا۔ رات کے دس بجے تھے۔ بجلی کی کڑک اور بادلوں کی گرج سے ڈرتی آمنہ کہیں سے ایک موم بتی ڈھونڈکر لاٸ اور دونوں بہنوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کو ڈراٶنی کہانیاں سناٸیں گی۔ زیادہ ڈرنے والا ہار جاۓ گا۔ پہلی باری آمنہ نے لی۔ ۔”بہت عرصے پہلے کی بات ہے ایک جگہ ایک گنجی چڑیل رہتی تھی۔وہ چاہتی تھی کہ سب لوگ گنجے ہو جائیں۔ ایک دن اس نے بازار میں ایک شیمپو بیچا جو لوگ لگاتے تھے تو وہ گنجے ہو جاتے تھے۔وہ بہت خوش ہوئی کہ اب سب لوگ گنجے ہو جائیں گے لیکن کچھ دیر میں اس کی آنکھ کھل گئی کیونکہ یہ تو خواب تھا۔چڑیل کو بہت غصہ آیا اس نے سوچا خواب سچ ہوگا اس لیے میں ایک ایسا شیمپو بناؤں گی اس نے ایک شیمپو بنایا اور بازار میں بیچا لیکن لوگوں کے بال تو لمبے آنے لگ گئے۔چڑیل نے خود وہ شیمپو  خودلگایا تو اس کی گنج اور بھی چمکنے لگ گئی۔اب لوگ اسے ”بلب والی چڑیل“ کہتے ہیں۔ وانیہ کو بہت غصہ آ رہا تھا۔ اب اس کی باری تھی۔ ۔”بہت سال پہلے ایک جنگل میں ا...

Mark e Haq-Operation Bunyan um Marsoos Posters Pakistan successful military operation victory posters

Image
 Operation Bunyan um Marsoos Posters. Pakistan successful military operation Bunyan um Marsoos against India  victory posters are here.  Operation Bunyan um Marsoos means "iron wall" or "sisa Pillai deewar"posters is tribute to Pakistani armed forces who show bravery and fought and won a big victory against India after India attack on Pakistan sovereignity on the night of 6 May, 2025.  The heroes of Pakistan Air Force took the Rafael Indian planes as eagles and down at least six planes all of sudden. It was just a start. The war continued with the Criss cross of missiles and bronze for 4 days. And it ends to see fire at the when the last attack was done from Pakistan side on the morning of 10th May,named operation bunyan um Marsoos. The enemy was not able to answer even and agree to ceasefire by evening. To celebrate this victory all the schools and colleges in Pakistan are celebrating the victory students are making the posters for showing the love of their country...

لاہور کی نہر کا جنوں والا درخت۔ اردو کہانی بچوں کے لۓ

Image
لاہور کی نہر کا جنوں والا درخت۔ اردو کہانی بچوں کے لۓ ۔”ارے تم لوگ پھر وہی کہانی سننے کی ضد کرنے لگے جب مسلمان جنوں کا خاندان میرے اوپر آکر آباد ہوگیا تھا حالانکہ میرے پاس گزرے وقت کی اور بھی بہت سی کہانیاں ہیں“۔ لاہور کی نہر کنارے کھڑےساڑھے تین سو سالہ پرانے برگد کے بوڑھے درخت نے سوچتے ہوۓ کہا۔  ۔”ہاں اور جب اس خاندان کے ایک جن بچے نے ایک انگریز کو پتھر مار دیا تھا وہی والی کہانی۔۔۔“۔ آج چاند کی چودہویں روشن رات تھی اور چڑیا،مینا، کبوتر اور طوطوں کے بچے برگد درخت چاچا سے کہانیاں سننے آۓ تھے۔ برگد درخت چاچا انھیں بتاتے کہ  ۔”جب میں جوان تھا تو مغل شہزادیاں یہاں پانی سیر کرنے آیا کرتی تھی۔ اور دیر تک میری چھاٶں میں بیٹھی نہر کے پانی میں اپنے خوبصورت پاٶں مارتی رہتی تھیں۔ میرے آس پاس چھپن چھپاٸ کھیلا کرتی تھیں۔ اور ایک دفعہ تو ایک شہزادی نہر کے پانی میں گر پڑی۔بس میری پانی میں پھیلی ایک جڑ نے اسے بچایا لیکن  پھر ایک شہزادے نے نہر میں ڈبکی لگاٸ ا ور میری  تعریف اورکوشش اپنے نام کر لی۔ مجھے بہت ہی افسوس ہوا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ شہزادی مجھے پسند کرتی تھی اور۔۔۔“۔ ۔” ہمیں پ...

وقت کا خوفناک پرندہ۔ اردو کہانی۔ وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں

Image
وقت کا خوفناک پرندہ۔  اردو کہانی۔  وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں  آمنہ اوروانیہ داداابو کے گھر اسلام اباد میں چھوٹی عید منا کرواپس آ رہی تھیں اور دونوں بہنیں کافی اداس تھیں۔ دونوں بہنیں سوتے جاگتےباہر کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اپریل کا مہینہ تھا اور باہر کافی خوشگوار ہوا چل رہی تھی۔تیز چلتی ہوا اور گاڑیوں کی رفتار کی وجہ سے سڑکوں کے کنارے پتے اور کاغذ اڑنے لگتے تھے ابھی وہ جہلم کے پاس پہنچے تھے دونوں طرف پتھریلا پہاڑی راستہ تھا آبادی نہ ہونے کے برابر تھی کہ اچانک  ایک لال رنگ کا کاغذ اڑتا ہوا آیا اور ان کی کھڑکی سے چپک گیا۔  کچھ اورکاغذ بھی ان کی کھڑکی پر چپک گۓ۔ ان پر عجیب بھوت جیسی شکلیں اور نقشے بنے ہوۓ تھے۔ سڑک پر گاڑیوں کی جگہ گھوڑے چل رہے تھے۔ لوگ تلواریں لے کر جنگ کرنے جارہے تھے۔ گھوڑے ہنہنا رہے تھے۔ لوگ زخمی تھے۔کچھ لوگ درد سے کراہ رہے تھے جیسے وہ مرتے اور بھوت بن جاتے۔  دونوں نے زودار چیخ ماری کہ بابا کو بریک لگانی پڑی۔  ۔”بابا ہماری کھڑکی پر بھو ت تھے۔ ہماری سڑک پر پرانے زمانے کی جنگ ہورہی تھی اور لوگ مر کربھوت بن رہے تھے“۔ دونوں بولیں۔  ۔”اور د...

تفہیم۔ اردو urdu tafheem for practice class 5-8

Image
 ب درج ذیل عبارت کو غور سے پڑھیں اور نیچے دیے گئے سوالات کے جوابات دیں۔ (8=4x2) حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا زمانہ اسلام کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس دور میں روم اور ایران جیسی بڑی حکومتیں اسلامی حکومت میں شامل ہوئیں۔ اس زمانے میں مصر پر اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں اسلامی حکومت دور دور تک پھیل گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کی مدت دس برس چھ مہینے چار دن ہے۔ اس مدت میں انہوں نے اتنی بڑی حکومت کو چلانے کے لیے باقاعدہ حکومتی نظام بھی قائم کیا۔ سیدنا حضرت عمر فاروق نے اپنے دور خلافت میں خزانے کا محکمہ قائم کیا۔ عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقرر کیے ۔ جیل خانے اور پولیس کا محکمہ بھی آپ ہی نے قائم کیا۔ " تاریخ سن ہجری " قائم کیا، جو آج تک جاری ہے۔ فوجی دفتر ترتیب دیا اور فوجی چھاؤنیاں قائم کیں۔ شہر آباد کرائے، دفتر مال قائم کیا، زرعی اصلاحات کے تحت زمین کی پیمائش جاری کی ، نہریں کھدوائیں، ڈاک کا نظام متعارف کروایا۔ رضا کاروں کی تنخواہیں مقرر کیں۔ پرچہ نویس مقرر کیے۔ مکہ سے مدینے تک مسافروں کے آرام کے لیے سرائیں بنوائیں ۔ گم شدہ ب...

چیل کی شادی سکول اور نوڈلز کی دیگ۔اردو کہانی بچوں کے لۓ۔ سکول گپیاں

Image
 چیل کی شادی، سکول اور نوڈلز کی دیگ۔ سکول گپیاں۔. schoolgapian  اردو کہانی  ہر سکول کی طرح اس سکول کے گراٶنڈ کے کنارے ایک بلند درخت تھا۔ جس کےسب سے اوپر والی شاخ پر چیلوں کا بہت بڑا گھونسلہ تھا۔اس گھونسلے میں ایک چیلوں کا خوبصورت سا خاندان رہتا تھا۔ چیل کا ایک  بیٹا تھا وہ بہت ہی پیارا اور شرارتی تھا ۔چیلوں کا وہ بچہ سارا دن سکول کے بچوں کو اسمبلی کرتے، کھیلتےاور پڑھتے دیکھتا  رہتا تھا۔ اور آدھی چھٹی کے وقت اپنے بہن بھاٸیوں کے ساتھ مل کر سکول کے بچوں سے ان کے لنچ بھی اچک لیتا تھا۔ وہ مزیدار چپس کے پیکٹ اور ڈھیر سارے نوڈلز تو اس کے پسندیدہ تھے جو وہ بچوں سے چھین کر اپنے گھونسلے میں بیٹھ کرکھاتا اور سوچتا کہ کاش یہ سارے بچے اس کے دوست بن جاٸیں ۔ وہ سب اس کی شادی میں بھی آٸیں۔ جو کہ جلد ہونے والی تھی۔ لیکن بچے تو چیلوں سے ڈرتے تھے۔    تھا۔ وہ کہتے تھے کہ یہ چیل  تو ہمیں کھا جائے گی۔کیونکہ ہم سب کو بچپن میں ماں باپ کہتے تھے کہ چیل چھوٹے بچوں کو اٹھا کر اپنے گھونسلے میں لے جاتی ہے۔ چیلوں کو چمکدار اور خوبصورت چیزیں اپنے گھونسلے میں جمع کرنے کا شوق...

لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ اردو کہانی

Image
 لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے.  اردو کہانی  ایک دفعہ لڑکا کسی شہر میں ایک لڑکا رہتا تھا۔ وہ پڑھائی نہیں کرتا تھا . سارا دن آرام کرتا تھا. یا کھیلتا تھا ۔ اس نے بہت سے نکمے دوست بھی بنا رکھے تھے جن کے ساتھ وہ وقت برباد کرتا تھا. سکول میں استادوں کو تنگ کرنا اور ہر وقت شرارتیں کرنا اس کا پسندیدہ کام تھا۔ اُس کے امی اور ابو اُسے بہت سمجھاتے تھے۔ لیکن وہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا تھا. ایک دن وہ اپنے دوستوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر گھوم رہا تھا کہ وہاں پر پولیس آگئی اور آوارہ لڑکوں کو پکڑنے لگی۔اس کے تمام دوست اس کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور وہ پولیس کے ہاتھ لگ گیا پہلے تو پولیس نے اس کی اچھی خاصی چھترول کی۔ جب اس کے باپ کو پتہ چلا تو گھر آنے کے بعد اس کے باپ نے بھی اسے بہت مارا۔  سکول میں تو پہلے ہی اس کی بہت سی شکایتیں تھیں اسے بہت سے وارننگ لیٹر مل چکے تھے لیکن اب حد ہو گئی تھی اور سکول نے بھی اسے نکال دیا۔ اب وہی دوست جن کے ساتھ وہ وقت ضائع کرتا تھا اسے بچنے لگے اور کہنے لگے کہ ان کے ماں باپ نے منع کیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ نہ گھومے پھریں کیونکہ وہ اچھا لڑکا...