Posts

امی کاگھر۔ اردو نظم ۔صاٸمہ ندیم

Image
  امی کا گھر پھیلی ہوٸ یادیں اور گونجتی آوازیں امی کے گھر جیتی ہیں ماضی کی سانسیں نیم کے درخت کی گھنی چھاٶں کی طرح بانہیں کھول رکھیں محبت بھری دیواریں چھوٹے صحن میں جہاں جلتا تھا اک چولہا   اب کبھی ملتے ہیں بچھڑے بھاٸ اور بہنیں کہیں ہے دبی مانوس خوشبو بچپن کی یاد کراۓ بے فکر کھیل اور تپتی  شامیں روزگار اور رواجوں سے رخصت ہوۓ مکیں  مہماں بنے بس کچھ چھٹیاں یہاں گزاریں ابو کا گھر کب امی کا گھر بن جاتا  بنا کاغذ یہ سلسلے ساری گرد جھاڑیں بوڑھے ماں باپ کھو جاتے ہیں تو کیوں  ویران ہو جاتی ہیں وہی گلیاں وہی راہیں ہمیشہ امی کے گھر کی رونقیں نہیں رہتیں پھر نہیں دیتا کوٸ جھولی بھر کے دعاٸیں صاٸمہ ندیم

لاہور کی نقلی بارش۔ اردو کہانی۔

Image
 سکول گپیاں Read funny Urdu Stories #schoolgapian by Saima nadeem. Read Saima Nadeem funny Urdu stories series #schoolgapian- سکول گپیاں  لاہور اور مصنوعی بارش لاہور میں جیسے ہی ایک عرصےکی سموگ کے بعد  آج صبح سویرے بارش ہونے کی آواز آٸ تو جانے انجانے میں ہر لاہوری  کو اس ” آرٹیفیشل رین“ کا خیال آیا جس کا تذکرہ کچھ عرصے سے ہر ٹی وی چینل پر ہو رہا تھا۔ سب کو کہیں نہ کہیں اس تجربے کا انتظار تھا۔  ۔”جی ناظرین لاہور میں گہری سموگ کو ختم کرنے کے لۓ حکومت کل مصنوعی بارش کاملک میں پہلا تجربہ کرے گی“۔ ہر خبر ہمارے ساتھ۔۔۔۔ سب اس خبر کا سوچتے اپنے اپنے کام کو نکلے۔  کچھ دیر بعد سکول میں بھی اسمبلی میں بچے اور استانیاں کھلے آسمان پر گہرے کالے بادلوں اور ٹھنڈی ہوا کے جھونکوں کی وجہ سے خوشگوار موڈ میں تھے۔ بارش توکب کی رک چکی تھی۔  ۔”کیا صبح سویرے ہونے والی بارش آرٹیفیشل تھی“ ۔؟ تقریباً ہر کسی کے منہ پر یہ سوال تھا۔ ہر کوٸ اپنی عقل اور معلومات کے مطابق تبصرے میں شامل ہونے کے لۓ بے چین تھا۔ ۔”جہازوں کی آواز تو نہیں آٸ جو اوپر جا کر کیمیکل پھینکتے ہیں۔ میں نے سنا ہے ...

سکول گپیاں۔ ون ڈالر شاپ ۔ اردو کہانی۔ schoolgapian-one dollar shopUrdu story for kidsصاٸمہ ندیم

Image
Read Saima Nadeem Urdu stories. Saima Nadeem funny Urdustories series #schoolgapian  سکول گپیاں ٢ سکول گپیاں ۔  ون ڈالر شاپ ۔  اردو کہانی ۔  صاٸمہ ندیم ون ڈالر شاپ۔ اردو کہانی #schoolgapian سکول گپیاں ”سب بچے کل ٢٠ ,٢٠ روپے لے کر آٸیں گے۔ جماعت کو سجانا ہےاس کے لۓ چیزیں لینی ہیں۔“ مس شبانہ اور جماعت ششم کےطلباجماعت کی سجاوٹ کے لۓ کافی پرجوش تھے۔ ” حسنین آپ پوری جماعت سے یسے جمع کریں۔  ٤٣ طلبا ہیں۔ مطلب کہ ہمارے پاس اکٹھے ہوں گے کل ٨٦٠ روپے۔ ”  ہمیں چاہیے نوٹس بورڈ کے لۓ کچھ گلیز پیپر، چارٹ، کمپیوٹر شیٹ، گلو، پینز وغیرہ” ” مس کلاک۔۔۔۔۔ ” “مس ہم جماعت کے لۓ کلاک بھی لیں گے” ”مس ون ڈالر شاپ سے بہت اچھے کلاک ملتے ہیں۔”  ”میرے گھر کے پاس شاپ ہے۔ میں لاٶں گا“علی بولا۔  ”نہیں میں لاٶں گا” عمر بولا ”بالکل نہیں۔ ون ڈالر شاپ کے کلاک اچھے نہیں ہوتے۔ ہم اچھا کلاک لیں گے“۔ مس شبانہ بولیں۔ ”مس بہت اچھے ہوتے ہیں۔ ہم وہاں سے لیں گے“۔ کافی بچے ایک ساتھ بولے۔ ”اوہ اوہ۔۔۔آپ لوگوں کو نہیں پتا۔ وہ کلاک جلدی خراب ہو جاتے ہیں۔ ان کے سیل بار بار بدلنے پڑتے ہیں۔ ان کی مشی...

سکول گپیاں۔ نقل چور۔ Urdu story for kids schoolgapian

Image
 سکول گپیاں ٣ سکول گپیاں۔  نقل چور ۔ مزیدار کہانیاں ۔”آج میری ڈیوٹی ہے اس لۓ کوٸ طالب علم نقل کرنے کا سوچے بھی نہیں۔ میں پرچہ کینسل کردوں گی۔“ مس انعم نے اونچی آواز میں بول کر بچوں کو اپنی طرف  متوجہ کرنے کی کوشش کی جبکہ بہت سے طلبا اپنی کتابوں اور کاپیوں سے یاد کرتے رہے جیسے ہر استانی ہی آکر یہ کہتی ہیں۔ جس نے نقل کرنی ہے وہ موقع ڈھونڈ ہی لیتا ہے۔ پرچہ شروع ہونے میں چند منٹ تھے۔ مس انعم جوابی کاپیاں ساتھ لاٸیں تھیں۔ اب بس سوالی پرچوں کی تقسیم کا انتظار تھاجو سیکشن ہیڈ کچھ دیر میں لے کر آنے والی تھیں۔ اس کمرے میں جماعت ششم اور جماعت پنجم کی طلبہ کو اس طرح بٹھایا گیا تھا کہ ایک قطار جماعت پنجم اور ایک جماعت ششم کی تھی۔ اللہ اللہ کرکے سوالیہ پرچے آگۓ۔ سب بچوں کے یاد کرنے کی رفتار تیز ہوگٸ۔ ۔  ۔”سب بچے اپنی کتابیں اور بستے باہر رکھ کر آٸیں۔ آخری بار کہہ رہی ہوں کہ نقل کا سوچنا بھی نہیں“۔ پرچہ شروع ہوا۔ طلبہ جی جان سے پرچہ کرنے لگے۔  مس انعم نے جماعت میں نظر دوڑاٸ۔ ایک تو وہ لاٸق بچے تھے جو ایک ایک نمبرکے لۓجی جان سے لڑتے ہیں۔ نہایت دھیان  سے پرچہ کر رہے تھے۔ د...

سکول گپیاں۔ مس ماہا کا آٸ فون-Urdu story for kids۔ مزیدار کہانیاں

Image
 سکو ل گپیاں #schoolgapian   سکول گپیاں۔  مس ماہا کا آٸ فون۔  مزیدار کہانیاں ۔”ہارون بیٹا ذرا ادھر آئیں“۔   مس انعم نے جماعت میں داخل ہو کر اپنا بیگ میز پر رکھا اور جلدی میں ہارون کو بلایا۔ “جی مس” ۔”جائیں ذرا دیکھ کر أئیں کہ مس ماہا کون سی جماعت میں ہیں۔ مجھے ان سے کام ہے۔ موبائل میں بیلینس بھی نہیں میرے ورنہ کال کر لیتی ۔ ان سے پوچھیں ان کا کونسا پیریڈ فری ہےاور ہاں۔۔۔ ان سے کہنا کہ اپنی جماعت کی لسٹ بھی دے دیں۔ میں نے نمبر لگانے ہیں“۔ ۔”ٹھیک ہے مس“ ہارون تیزی سے واپس مڑا اور کچھ سوچتے ہوۓ جماعت سے باہر چلا گیا۔ ۔”مجھے اگلے مہینے کمیٹی چاہیے۔ مس ماہا سے کہتی ہوں کہ کچھ میرا مسئلہ حل کریں أخر میں۔اتنی پرانی ممبر ہوں“۔ مس انعم خود کلامی کر نے لگیں کہ جماعت میں شور شروع ہوگیا۔  ۔”استاد کے جماعت میں داخل ہونے کا مطلب ہے کہ کتابیں بستے سے نکالیں اور کھول لیں لیکن نہیں استاد پہلے چیخے چلاۓ ، یا درخواست کرے پھر ہلتے ہیں آپ لوگ۔ منہ بند کریں اور کتابیں نکالیں۔“ مس انعم چلاٸیں۔ ۔”مس میں آجاٶں“۔ تبھی ہارون دروازے پر آیا۔ ۔”آجاٸیں۔۔ کہاں ہیں مس ماہا؟“۔...

سکول گپیاں۔ واٹس ایپ نمبر۔Urdu story for kids مزیدار کہانی

Image
 سکول گپیاں 4 واٹس ایپ نمبر ۔"مس میرا نیا نمبر واٹس ایپ نمبر گروپ میں ڈال دیں“۔ عائلہ کلاس ٹیچر مسں سائرہ کے پاس آئی جب پیریڈختم ہونے کی بیل ہو گئی تھی ۔ ۔”عائلہ آپ کا پہلے ہی ایک نمبر موجود ہے“۔ ۔”مس وہ گروپ سے نکال دیں وہ میرے ابو کا نمبر ہے۔میرا نیا نمبر ڈال دیں یہ میری آپی کا نمبر ہے“۔ ۔”اچھا ٹھیک ہے جلدی سے بتائیں اپنا نیا نمبر مجھے اگلی کلاس میں بھی جانا ہے“۔مس سائرہ نے جلدی میں جواب دیا اور عاٸلہ کا نیا نمبر گروپ میں ڈال دیا۔ ۔”مس میرے ابو کا نمبر گروپ سے نکال دیں۔“عا ٸلہ نے پیچھے سے آواز  دی۔ ۔”بیٹا ابھی تو میں اگلی کلاس میں جا رہی ہوں۔میں نکال دوں گی“۔ میں سائرہ تیزی سے اگے بڑھ گئیں۔ اگلے دن جیسے ہی جماعت ختم ہوئی عائلہ مس سائرہ کے پاس آئی۔ ۔”مس میرے ابو کا نمبر گروپ سے نکال دیں“۔ تبھی آیا باجی ایک رجسٹر لے کر مس ساٸرہ کے پاس     آگئیں۔  ۔”میرا ایک ہی فری پیریڈ تھا وہ بھی لگ گیا۔ اوپر سے پارٹی کی تیاریوں کی ڈیوٹی بھی ہے“۔ میں سائرہ جھنجھلا کر اپنے آپ سے بولیں “جی عاٸلہ کیا مسئلہ ہے؟” ۔”مس میرے ابو کا نمبر گروپ سے نکال دیں“۔ ۔”ان کا نمبر بھی رہنے دیں کیا...

سکول گپیاں ۔ خاموش لڑکی ۔ Urdu story for kids

Image
 سکول گپیاں 6 سکول گپیاں مشہور مصنفہ صاٸمہ ندیم کی ایک اور مزیدار اردو کہانیوں کی سیریز ہے۔ جہاں کو سکول کی زندگی سے ملیں گی مزیدار گپوں سے بھری کہانیاں۔ سکول گپیاں۔ خاموش لڑکی ”ماشاءاللہ حریم بہت ذہین اور فرمانبردار بچی ہے۔ہمیشہ کی طرح اسکا نتیجہ بہت  اچھا آیا ہے“۔ مس عاٸشہ نے رپورٹ کارڈ حریم کی امی کی طرف بڑھایا۔ ” یہ سب آپ کی محنت ہے مس صاحبہ۔ بہت شکریہ۔ لیکن اج میں کوئی اور بات کرنا چاہتی ہوں ۔ اصل میں حریم بہت خاموش مزاج ہے۔جب خاندان میں جاتی ہے تو اپنی کزنوں کے ساتھ گھلتی ملتی نہیں ہے۔“ ”خاموش مزاج ہونا تو اچھی بات ہے حریم کی شخصیت بہت سلجھی ہوئی ہے۔ سکول کی غیر نصابی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔ اب دیکھیں میری بیٹی بھی اسی عمر کی ہے۔ وہ بھی خاموش مزاج ہے۔ لوگوں سے ایک فاصلہ رکھتی ہے۔ مجھے تو اس کی شخصیت پسند ہے۔“مس عاٸشہ نے مسکراتے ہوۓ کہا۔ ۔”نہیں مس اپ تو جانتی ہیں اج کل کی لڑکیاں کتنی تیز ہیں۔ہر چیز میں آگے ہیں۔ اور ہر مسٸلے کو خود ہی حل کر لیتی ہیں۔ اب حرہم آٹھویں جماعت میں اگئی ہے۔بڑی ہو رہی ہے۔ میں چاہتی ہوں کہ اپ اس میں تھوڑا اعتماد پیدا کریں۔ وہ بھی ب...