Posts

صفاٸ ستھراٸ ۔ اردو نظم بچوں کے لۓ

Image
Urdu poem about cleanliness  صفائی ستھرائی کی اہمیت کے بارے میں ایک نظم بچوں کے لیے صفاٸ ستھراٸ اردو نظم بچوں کے لۓ صفاٸ ستھراٸ کو کر لو ایسا چمکے ہر کونا شیشے جیسا صفاٸ سے ملے صحت تندرستی روزانہ نہانے سے آۓ چستی کرو احتیاط، کاٹو ناخن ہاتھ دھو، لے کر صابن ظاہر ہو یا ہو باطن رکھو صاف اپنا تن من صاف ہو گھر، صاف سکول کامیابی کا راز — صاف ماحول کچرے کو جو ملے کوڑے دان جراثیم و بیماری سے ہو  امان آدھا ایمان مکمل کر لوگے جب صفاٸ کا اہتمام کر لوگے اپنی پاکی کا رکھو دھیان صاف ماحول، خوشی کا نشان صاٸمہ ندیم

ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ کہانی محمد طہ

Image
 _ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی_ :مصنف :محمد طہ جماعت  ہفتم بی ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بچہ رہتا تھا اس کا نام شونٹی تھا اس کو ایک ایسی بیماری تھی جس سے اس کے بال کبھی بھی نہیں اگ سکتے تھے اس لیے وہ دوسرے بچوں کے بال دیکھ کر جلتا تھا اس نے ایک دفعہ ایک انسان کو دیکھا اور اس کا نام پوچھا وہ کہنے لگا کہ میرا نام پتنجلی بابا ہے وہ ایک کمپنی کا مالک تھا جس کا نام پتنجلی بابا کے بلے بلے کریم تھا وہ کریم بالوں کو دو منٹ میں اگا سکتی تھی لیکن بچے کے پاس اتنے پیسے نہیں تھے تو اس نے ان بابا جی کو کہا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں مگر مجھے بال چاہیے ہیں تنزلی بابا نے کہا کہ اگر تم میرے گھر میں تین دن تک کام کرو گے تو میں تمہیں وہ کریم مفت میں دے دوں گا بچے نے تین دن تک لگاتار محنت سے کام کیا اور اس کو وہ کریم حاصل ہو گئی تو اس نے جب اس کریم کو دو دن تک بالوں پہ لگایا تو کوئی فرق نہ پڑا اور پھر اس نے اس کریم کو بار بار لگایا مگر پھر سے کوئی فرق نہ پڑا کچھ دن بعد اس نے اخبار پڑھی تو پتہ چلا کہ وہ بابا دھوکے باز نکلا تو اس کہانی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر چمکتی چیز سونا ...
 ملے مجھے چاند اور اک تارا سبز تھا باغ سارا قریب۔ان کے ندی تھی سفیدی جس میں بھری تھی چاند روشن چنکتا تھا تڑقی سے دمکتا تھا تارا کا ہر کونہ  ارکان۔اسلام سے بھرا تھا پوچھا میرا گھر  برف سا سفید اور  

ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اردو کہانی

Image
 ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی۔ اردو کہانی مصنفہ :یشفین  جماعت :ہفتم اے

میں بنا ایک کبوتر۔اردو نظم بچوں کے لۓ

Image
 میں بنا ایک کبوتر۔ اردو نظم بچوں کے لۓ صاٸمہ ندیم میں بنا ایک کبوتر  ڈھونڈنے نکلا نیا گھر دیکھے میں نے پہاڑ برف سے ڈھکے شاندار ان کےبیچ تھی وادیاں بہتی تھی نیلی ندیاں پاس تھیں چھوٹی پہاڑیاں لۓ درخت اور جھاڑیاں ملے مجھے میدانی علاقے سبز فصلوں کے بنے خاکے کچھ دور تھا اک دریا نیلا، میٹھا اور چمکیلا دوست تھا اس کا سمندر نمکین پانی تھا اس کے اندر ملا مجھے دور یوں جزیرہ پانی نے اس کو تھا گھیرا پسند آٸ کچھ سطع مرتفع باقی جگہ سے تھا میں اونچا کیسا تھا دوستو ریگستان ہر طرف ریت کا تھا طوفان  چُنوں کونسی زمینی شکل بتا ٶ آپ مجھے آج یا کل

بارش آٸ ٹپ ٹپ

Image
اردو نظم ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !حسن پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا؟ ۔۔۔میں۔۔میں۔۔میں ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !عریشہ پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا؟ ۔میں۔۔میں۔۔میں۔۔۔ ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !آپی پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا؟ ۔۔۔میں۔۔میں۔۔میں ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !بھیا پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا؟ ۔میں۔۔میں۔۔میں۔۔۔ ٹِک ٹِک ٹِک ٹِک بارش آٸ  ٹِپ ٹِپ ٹِپ ٹِپ !قوس قزح پوچھے سارے بولو میرے ساتھ  کون کون بھیگے گا ۔میں۔۔میں۔۔میں

جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔ اردو کہانی بچوں کے لۓ

Image
 جیسا کرو گے ویسا بھرو گے۔  Tit For Tat اردو کہانی بچوں کے لۓ صاٸمہ ندیم ایک دفعہ ایک جنگل میں بہت سے جانور مل جل کر رہتے تھے جب جنگل کے بندروں نےجنگل کے بادشاہ شیر سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگل کے اس حصے میں رہنے والی گلہریوں کو یہاں سے نکال دیں کیونکہ  گلہریوں کے درختوں پر چڑھنے اور اُترنے کی وجہ سے بندر اور ان کے بچوں کو مشکلات ہوتی ہیں اور دوسرا وہ گلہریاں ان کے کھانے کی چیزیں بھی اٹھا لیتی ہیں۔ ایسا جنگل میں پہلے  کبھی نہیں ہوا تھا ۔ سب جانور مل جل کر رہتے تھے۔ بندروں کا یہ مطالبہ سن کر گلہریاں بہت پریشان ہوئیں۔ بندروں کے شیر بادشاہ کے وزیر لومڑی کے ساتھ تعلقات اچھے تھے اس کے علاوہ وہ اپنی چاپلوسی میں بھی مشہور تھے۔گلہریاں جانتی تھیں کہ حق پر ہونے کے باوجود بھی فیصلہ ان کے خلاف آۓ گااور ایسا ہی ہوااور گلہریوں کو جنگل کے دوسرے حصے میں جانے کا کہا گیا۔اس فیصلے کو جنگل کے باقی جانوروں نے بھی پسند نہ کیا لیکن وہ بھی بندروں کی بدمعاشی سے خوفزدہ تھے۔آخر گلہریوں کو جنگل کے دوسرے حصے میں منتقل ہونا پڑاجو کہ درمیان کے حصے کی طرح سر سبز نہیں تھااور انسانی آبادی سے بھی بہت دور ...

جس کا کام اس کو ساجھے۔ اردو کہانی

Image
جس کا کام اسی کو ساجھے۔ اردو کہانی صائمہ ندیم  ایک آدمی کی گاڑی خراب ہو گئی۔اس نے گاڑی کا بونٹ کھول کر دیکھا تو اسے لگا کہ کچھ انجن کا کام ہے۔اس نے سوچا کہ اگر وہ مکینک کے پاس گیا تو وقت بھی ضائع ہو جائے گا اور کافی زیادہ پیسے بھی لگ جائیں گےکیوں نہ میں یوٹیوب سے ویڈیو دیکھوں اور گاڑی خود ٹھیک کرنے کی کوشش کروں۔آخر اس نے یوٹیوب سے ویڈیو دیکھنا شروع کیں اور کچھ ہی دیر بعد اسے احساس ہوا کہ اب تو اسے گاڑی ٹھیک کرنا آ گئی ہےوہ خواہ مخواہ ہی اتنے پیسے مکینک کے پاس جا کے ضائع کرتا رہا ہے۔بس چھٹی کے دن صبح ہی اس نے اپنی گاڑی کا بونٹ کھولا اور گاڑی کاکام شروع کر دیا۔ دیکھتےہی دیکھتے اس نے گاڑی کے کافی پرزے نکال کر باہر رکھ د یے۔اب اسے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی جب وہ ایک تار کو دوسری سے جوڑتا یا پرزہ واپس رکھتا تو اسے سمجھ نہیں آتی۔ کچھ ہی دیر میں وہ تھکنے لگا لیکن اس نے پھر وڈیوز چلاٸیں اور اپنے حساب سے گاڑی کو ٹھیک کر دیا۔ اب باری تھی گاڑی سٹارٹ کرنے کی تو جیسے ہی  اس نے گاڑی سٹارٹ کی تو انجن سے دھواں نکلنے لگا۔ گاڑی بھی سٹارٹ ہو کر بند ہوگٸ۔ وہ بہت پریشان ہوا ۔ تبھی اس کا بھاٸ جو کافی ...

لالچ بُری بلا ہے۔ اردو کہانی۔ صاٸمہ ندیم

Image
  لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی۔ صاٸمہ ندیم ایک دفعہ دو دوست بازل اور شہروز کمپیو ٹر ہیکنگ اورنۓ سافٹ وٸیرز بنانے کے بہت ماہر تھے۔ انھو  نے ملکر ایک سافٹ وٸیر تیار کیا جس کی مدد سے حکومت کو ملکی کاموں میں بہت مدد مل سکتی تھی۔ وہ اپنے سافٹ وٸیر کو لے کر مختلف اداروں کے پاس گۓ ۔ ہر ادارہ انھیں منہ مانگی قیمت دینے پر تیار تھا۔ آخر کافی سوچ بچاراور چھان بین کے بعد انھوں نے ایک ادارے کو چن لیا۔ وہ  سافٹ وٸیر بیچنے ہی والے تھے کہ ان میں سے ایک دوست کو ایک فون آیا جس میں اسے سافٹ وٸیر کے بدلے ایک بہت بڑی رقم کی پیش کش کی گٸ۔اس دوست نے اس پر سوچا تو لالچ اس پر غالب آگٸ۔  ۔”آخر زیادہ کام میں نے ہی کیا تھا۔ شہروز تو خواہ مخواہ حصے دار بن رہا ہے“۔ بازل نے سوچا اور فیصلہ کر لیا۔ اس نے اپنے دوست سے مشورہ کۓ بغیر  سافٹ وٸیر کو ایک دوسری کمپنی کو بیچ دیا۔ ساتھ ہی ایک بہت بڑی رقم کے اس اکاٶنٹ میں آگٸ۔ ا  شہروز تو بازل  کے دھوکے پر بہت رنجیدہ ہوا لیکن اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔اس نے بازل دوست کے ساتھ کام کرنا چھوڑ دیا۔ چند دن ہی گزرے تھےکہ پولیس نے بازل کو گرفتار کرلیا کیو...

لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی ۔ صاٸمہ ندیم ے

Image
لالچ بری بلا ہے۔ اردو کہانی صاٸمہ ندیم   یہ کیا مطلب ہے اس گیم کے ساتھ سردیوں کی چھٹیاں تھی اور ماریہ کے گھر اس کے کزن رہنے کے لیے ائے ہوئے تھے۔اس شام دادا ابو نے مالمالٹوں کی بوری منگوائیتاکہ ان کے سارے پوتے پوتیاں خوشی سے مزے کریں۔ لیکن ماریہ بالکل بھی خوش نہیں تھی۔سب بچوں کو دو دو مالٹے ملے جو سب نے خوشی سے کھائے۔ ماریہ نے ضد کرکے تین مالٹے لۓ۔ مالٹے کافی بڑے اور رزدار تھے بچوں کا پیٹ بھر گیا لیکن ماریہ نے نہ صرف اپنے بھاٸ کا مالٹا بھی کھا لیا بلکہ دو مالٹے اور بھی چھپا لیے۔ رات کو جب سب سو گئے تو ماریا اٹھی اور اس نے اپنے چھپائے ہوئے دونوں مالٹے کھا لیے۔  وہ سونے جا رہی تھی کہ اسے اچانک خیال ایا کہ کل تو اس کے کزن باقی مالٹے کھاٸیں گے اور وہ ایسا نہیں چاہتی۔ اس کے پیٹ میں جگہ نہیں تھی لیکن اس نے صرف اس لۓ بوری سے اور مالٹے چرا کر کھاۓ کہ کوٸ اور نہ کھا لے۔ اسے بہت مشکل سے نیند آٸ لیکن جب جب صبح اد کی آنکھ کھلی تو ا سے اٹھا نہیں جا رہاتھا کیونہ اسے تیز بخار تھا۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ اسے نمونیہ ہو گیا ہے۔ وہ کٸ دن تک بیمار رہی۔ باقی پوری سردیاں اسے کھانے میں صرف سوپ اور نر...

دودھ کی پتیلی فرج کی ملکہ

Image
    فریج کی ملکہ دودھ کی پتیلی۔اردو کہانی بچوں کےلۓ مصنفہ :صاٸمہ ندیم ۔”اس فرج میں ہر چیز میری مرضی کے مطابق رکھی جاتی ہے۔ میں ہوں مالکن کی چہیتی ٹھنڈی چمکدار دودھ کی پتیلی ۔اس فرج کی ملکہ! اس فرج کے سب سے اوپر والے خانے میں ہمیشہ میرا قبضہ ہوتا ہے اور میرے ساتھ صرف کبھی کبھار دہی کا ایک چھوٹا سا ڈونگا ہی رکھا جا سکتا ہے یا کبھی کبھار اجازت ہو تو میں اپنے ساتھ کوئی مٹھائی کا ڈبہ رکھنے کی اجازت دیتی ہوں“ ۔  نہیں نہیں بالکل نہیں یہ بڑا سا تربوز بالکل میرے ساتھ نہیں آسکتا فرج کی پتیلی نے اپنے اپ کو اور پھیلایا اور جب مالکن نے فرج کھولا اور اس کے  .ہاتھ میں ایک بڑا سا تربوز تھا مالکن نے کچھ دیر کوشش کی۔ اس کے نیچے والے خانے میں شہزادہ آٹے کا ڈبہ اور سالن کا ایک ڈونگا تھا ۔تربوز کی باری اس کے نیچے والے خانے میں آئی جہاں پہلے ہی پھلوں کے شاپر تھے۔ مالکن نے شاپروں کو اور دھکیلا اور تربوز کی جگہ بنا دی۔  اور اس کے نیچے ٹوکری میں بہت ساری سبزیاں اوپر نیچے پڑی ہوئی تھیں ۔  تربوز وہاں پر بہت تنگ ہو رہا تھا ۔تربوز نے ارد گرد کا جائزہ لیا تو اسے احساس ہوا کہ فرج میں نی...

چوہوں کی نانی چڑیل۔ اردو کہانی

Image
 چوہوں کی نانی چڑیل۔ اردو کہانی صاٸمہ ندیم وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں # تیز بارش،طوفان، طویل لوڈ شیڈنگ اور گھپ اندھیرے نے ہر طرف عجیب ہیبت ناک ماحول بنا دیا تھا۔ رات کے دس بجے تھے۔ بجلی کی کڑک اور بادلوں کی گرج سے ڈرتی آمنہ کہیں سے ایک موم بتی ڈھونڈکر لاٸ اور دونوں بہنوں نے فیصلہ کیا کہ وہ ایک دوسرے کو ڈراٶنی کہانیاں سناٸیں گی۔ زیادہ ڈرنے والا ہار جاۓ گا۔ پہلی باری آمنہ نے لی۔ ۔”بہت عرصے پہلے کی بات ہے ایک جگہ ایک گنجی چڑیل رہتی تھی۔وہ چاہتی تھی کہ سب لوگ گنجے ہو جائیں۔ ایک دن اس نے بازار میں ایک شیمپو بیچا جو لوگ لگاتے تھے تو وہ گنجے ہو جاتے تھے۔وہ بہت خوش ہوئی کہ اب سب لوگ گنجے ہو جائیں گے لیکن کچھ دیر میں اس کی آنکھ کھل گئی کیونکہ یہ تو خواب تھا۔چڑیل کو بہت غصہ آیا اس نے سوچا خواب سچ ہوگا اس لیے میں ایک ایسا شیمپو بناؤں گی اس نے ایک شیمپو بنایا اور بازار میں بیچا لیکن لوگوں کے بال تو لمبے آنے لگ گئے۔چڑیل نے خود وہ شیمپو  خودلگایا تو اس کی گنج اور بھی چمکنے لگ گئی۔اب لوگ اسے ”بلب والی چڑیل“ کہتے ہیں۔ وانیہ کو بہت غصہ آ رہا تھا۔ اب اس کی باری تھی۔ ۔”بہت سال پہلے ایک جنگل میں ا...

Mark e Haq-Operation Bunyan um Marsoos Posters Pakistan successful military operation victory posters

Image
 Operation Bunyan um Marsoos Posters. Pakistan successful military operation Bunyan um Marsoos against India  victory posters are here.  Operation Bunyan um Marsoos means "iron wall" or "sisa Pillai deewar"posters is tribute to Pakistani armed forces who show bravery and fought and won a big victory against India after India attack on Pakistan sovereignity on the night of 6 May, 2025.  The heroes of Pakistan Air Force took the Rafael Indian planes as eagles and down at least six planes all of sudden. It was just a start. The war continued with the Criss cross of missiles and bronze for 4 days. And it ends to see fire at the when the last attack was done from Pakistan side on the morning of 10th May,named operation bunyan um Marsoos. The enemy was not able to answer even and agree to ceasefire by evening. To celebrate this victory all the schools and colleges in Pakistan are celebrating the victory students are making the posters for showing the love of their country...

لاہور کی نہر کا جنوں والا درخت۔ اردو کہانی بچوں کے لۓ

Image
لاہور کی نہر کا جنوں والا درخت۔ اردو کہانی بچوں کے لۓ ۔”ارے تم لوگ پھر وہی کہانی سننے کی ضد کرنے لگے جب مسلمان جنوں کا خاندان میرے اوپر آکر آباد ہوگیا تھا حالانکہ میرے پاس گزرے وقت کی اور بھی بہت سی کہانیاں ہیں“۔ لاہور کی نہر کنارے کھڑےساڑھے تین سو سالہ پرانے برگد کے بوڑھے درخت نے سوچتے ہوۓ کہا۔  ۔”ہاں اور جب اس خاندان کے ایک جن بچے نے ایک انگریز کو پتھر مار دیا تھا وہی والی کہانی۔۔۔“۔ آج چاند کی چودہویں روشن رات تھی اور چڑیا،مینا، کبوتر اور طوطوں کے بچے برگد درخت چاچا سے کہانیاں سننے آۓ تھے۔ برگد درخت چاچا انھیں بتاتے کہ  ۔”جب میں جوان تھا تو مغل شہزادیاں یہاں پانی سیر کرنے آیا کرتی تھی۔ اور دیر تک میری چھاٶں میں بیٹھی نہر کے پانی میں اپنے خوبصورت پاٶں مارتی رہتی تھیں۔ میرے آس پاس چھپن چھپاٸ کھیلا کرتی تھیں۔ اور ایک دفعہ تو ایک شہزادی نہر کے پانی میں گر پڑی۔بس میری پانی میں پھیلی ایک جڑ نے اسے بچایا لیکن  پھر ایک شہزادے نے نہر میں ڈبکی لگاٸ ا ور میری  تعریف اورکوشش اپنے نام کر لی۔ مجھے بہت ہی افسوس ہوا۔ مجھے یقین ہے کہ وہ شہزادی مجھے پسند کرتی تھی اور۔۔۔“۔ ۔” ہمیں پ...

وقت کا خوفناک پرندہ۔ اردو کہانی۔ وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں

Image
وقت کا خوفناک پرندہ۔  اردو کہانی۔  وانیہ اور آمنہ کی کہانیاں  آمنہ اوروانیہ داداابو کے گھر اسلام اباد میں چھوٹی عید منا کرواپس آ رہی تھیں اور دونوں بہنیں کافی اداس تھیں۔ دونوں بہنیں سوتے جاگتےباہر کی طرف دیکھ رہی تھی۔ اپریل کا مہینہ تھا اور باہر کافی خوشگوار ہوا چل رہی تھی۔تیز چلتی ہوا اور گاڑیوں کی رفتار کی وجہ سے سڑکوں کے کنارے پتے اور کاغذ اڑنے لگتے تھے ابھی وہ جہلم کے پاس پہنچے تھے دونوں طرف پتھریلا پہاڑی راستہ تھا آبادی نہ ہونے کے برابر تھی کہ اچانک  ایک لال رنگ کا کاغذ اڑتا ہوا آیا اور ان کی کھڑکی سے چپک گیا۔  کچھ اورکاغذ بھی ان کی کھڑکی پر چپک گۓ۔ ان پر عجیب بھوت جیسی شکلیں اور نقشے بنے ہوۓ تھے۔ سڑک پر گاڑیوں کی جگہ گھوڑے چل رہے تھے۔ لوگ تلواریں لے کر جنگ کرنے جارہے تھے۔ گھوڑے ہنہنا رہے تھے۔ لوگ زخمی تھے۔کچھ لوگ درد سے کراہ رہے تھے جیسے وہ مرتے اور بھوت بن جاتے۔  دونوں نے زودار چیخ ماری کہ بابا کو بریک لگانی پڑی۔  ۔”بابا ہماری کھڑکی پر بھو ت تھے۔ ہماری سڑک پر پرانے زمانے کی جنگ ہورہی تھی اور لوگ مر کربھوت بن رہے تھے“۔ دونوں بولیں۔  ۔”اور د...

تفہیم۔ اردو urdu tafheem for practice class 5-8

Image
 ب درج ذیل عبارت کو غور سے پڑھیں اور نیچے دیے گئے سوالات کے جوابات دیں۔ (8=4x2) حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا زمانہ اسلام کی تاریخ میں اپنی مثال آپ ہے۔ اس دور میں روم اور ایران جیسی بڑی حکومتیں اسلامی حکومت میں شامل ہوئیں۔ اس زمانے میں مصر پر اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت میں اسلامی حکومت دور دور تک پھیل گئی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی خلافت کی مدت دس برس چھ مہینے چار دن ہے۔ اس مدت میں انہوں نے اتنی بڑی حکومت کو چلانے کے لیے باقاعدہ حکومتی نظام بھی قائم کیا۔ سیدنا حضرت عمر فاروق نے اپنے دور خلافت میں خزانے کا محکمہ قائم کیا۔ عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقرر کیے ۔ جیل خانے اور پولیس کا محکمہ بھی آپ ہی نے قائم کیا۔ " تاریخ سن ہجری " قائم کیا، جو آج تک جاری ہے۔ فوجی دفتر ترتیب دیا اور فوجی چھاؤنیاں قائم کیں۔ شہر آباد کرائے، دفتر مال قائم کیا، زرعی اصلاحات کے تحت زمین کی پیمائش جاری کی ، نہریں کھدوائیں، ڈاک کا نظام متعارف کروایا۔ رضا کاروں کی تنخواہیں مقرر کیں۔ پرچہ نویس مقرر کیے۔ مکہ سے مدینے تک مسافروں کے آرام کے لیے سرائیں بنوائیں ۔ گم شدہ ب...

چیل کی شادی سکول اور نوڈلز کی دیگ۔اردو کہانی بچوں کے لۓ۔ سکول گپیاں

Image
 چیل کی شادی، سکول اور نوڈلز کی دیگ۔ سکول گپیاں۔. schoolgapian  اردو کہانی  ہر سکول کی طرح اس سکول کے گراٶنڈ کے کنارے ایک بلند درخت تھا۔ جس کےسب سے اوپر والی شاخ پر چیلوں کا بہت بڑا گھونسلہ تھا۔اس گھونسلے میں ایک چیلوں کا خوبصورت سا خاندان رہتا تھا۔ چیل کا ایک  بیٹا تھا وہ بہت ہی پیارا اور شرارتی تھا ۔چیلوں کا وہ بچہ سارا دن سکول کے بچوں کو اسمبلی کرتے، کھیلتےاور پڑھتے دیکھتا  رہتا تھا۔ اور آدھی چھٹی کے وقت اپنے بہن بھاٸیوں کے ساتھ مل کر سکول کے بچوں سے ان کے لنچ بھی اچک لیتا تھا۔ وہ مزیدار چپس کے پیکٹ اور ڈھیر سارے نوڈلز تو اس کے پسندیدہ تھے جو وہ بچوں سے چھین کر اپنے گھونسلے میں بیٹھ کرکھاتا اور سوچتا کہ کاش یہ سارے بچے اس کے دوست بن جاٸیں ۔ وہ سب اس کی شادی میں بھی آٸیں۔ جو کہ جلد ہونے والی تھی۔ لیکن بچے تو چیلوں سے ڈرتے تھے۔    تھا۔ وہ کہتے تھے کہ یہ چیل  تو ہمیں کھا جائے گی۔کیونکہ ہم سب کو بچپن میں ماں باپ کہتے تھے کہ چیل چھوٹے بچوں کو اٹھا کر اپنے گھونسلے میں لے جاتی ہے۔ چیلوں کو چمکدار اور خوبصورت چیزیں اپنے گھونسلے میں جمع کرنے کا شوق...

لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ اردو کہانی

Image
 لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے.  اردو کہانی  ایک دفعہ لڑکا کسی شہر میں ایک لڑکا رہتا تھا۔ وہ پڑھائی نہیں کرتا تھا . سارا دن آرام کرتا تھا. یا کھیلتا تھا ۔ اس نے بہت سے نکمے دوست بھی بنا رکھے تھے جن کے ساتھ وہ وقت برباد کرتا تھا. سکول میں استادوں کو تنگ کرنا اور ہر وقت شرارتیں کرنا اس کا پسندیدہ کام تھا۔ اُس کے امی اور ابو اُسے بہت سمجھاتے تھے۔ لیکن وہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتا تھا. ایک دن وہ اپنے دوستوں کے ساتھ موٹر سائیکل پر گھوم رہا تھا کہ وہاں پر پولیس آگئی اور آوارہ لڑکوں کو پکڑنے لگی۔اس کے تمام دوست اس کو چھوڑ کر بھاگ گئے اور وہ پولیس کے ہاتھ لگ گیا پہلے تو پولیس نے اس کی اچھی خاصی چھترول کی۔ جب اس کے باپ کو پتہ چلا تو گھر آنے کے بعد اس کے باپ نے بھی اسے بہت مارا۔  سکول میں تو پہلے ہی اس کی بہت سی شکایتیں تھیں اسے بہت سے وارننگ لیٹر مل چکے تھے لیکن اب حد ہو گئی تھی اور سکول نے بھی اسے نکال دیا۔ اب وہی دوست جن کے ساتھ وہ وقت ضائع کرتا تھا اسے بچنے لگے اور کہنے لگے کہ ان کے ماں باپ نے منع کیا ہے کہ وہ اس کے ساتھ نہ گھومے پھریں کیونکہ وہ اچھا لڑکا...

وہ سکول کی شرارتیں۔ schoolgapian اردو کہانی

Image
    وہ سکول کی شرارتیں۔  اردو کہانی  #Schoolgapian- سکول  گپیاں ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک سکول  میں ساتویں جماعت کی کچھ لڑکیاں بہت شرارتی تھی وہ بہت نرالے کام کرتی تھیں۔ ایک دن آدھی چھٹی کے وقت جب جماعت کی ساری لڑکیاں جماعت سے باہر گئیں تو انہوں نے سب کی پانی کی بوتلیں ادهر اُدھر کر دیں جب  بر یک ختم ہوئی تو ساری لڑکیاں جب جماعت میں آئیں تو انہوں نے دیکھا کہ سب کی بوتلیں ان کے بستے میں نہیں ہیں۔ انہوں نے استانی کو بتایا کہ جماعت کے شرارتی گروہ نے یہ حرکت کی ہے۔ پھر استا نی نے ان سب کی سرزنش کی لیکن ان لڑکیوں پر کوئی اثر نہیں ہوتا تھا انہوں نے بہت کارنامے انجام دیے ۔بیڈ گرل سےبدتمیزی کی پھر ہیڈ گرل نے سیکشن بیڈ استاد کو بتا دیا اور پھر سیکشن بیڈ ستادنے جماعت میں آکر ان کی اچھی سرزنش کی ۔ وارننگ لیٹر دیا اور انہیں بیڈ گرلز سے معافی مانگنے کا کہا ۔پھر کچھ دن سکون سے گزرے پر پھر  سکول کی ایک پارٹی آگئی لیکن پارٹی میں گھر سے موبائل وغیرہ لانے کی بالکل اجازت نہیں تھی اور استانی نے سختی سے منع کیا تھا لیکن وہ گروپ کہاں منع ہونے والا تھا ۔ نہ صرف اس گروپ کی ...

MATH Admission Test Class 6,7 SAMPLE

Image
  MATH Admission Test Class 6 Total Marks: 35   Each question carry 4 marks   Q1. Find the LCM and HCF: -    27, 63 Q2. Solve:   Q3. What should be added to 68,965 to get 87, 0137? Q 4.   Add 5 hours23minutes22 second + 2 hrs27minutes31seconds? Q5.   In an right angled triangle ABC, if < A= 80° , < B=90°, find the value of <c=?. Q6 . The cost of one pen is Rs 14.68.Find the cost of 49 such pens. Q 7.   Convert:    (8)   statement answer 7mm = _______ cm     5 years=______months       Q8. Solve: (3) statement 7.25×10= 7.25×1000= 7.25÷1000=